اسلام میں کوئی عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ،مفتی تقی عثمانی

معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ اسلام میں کوئی بھی شخص چاہے کتنے بڑے عہدے پر ہو کسی بھی وقت عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔

مفتی تقی عثمانی نےکہا کہ خلفاء راشدین کی مثالیں سب کو معلوم ہیں، ہمارے دستور میں پہلے بھی صدر کو صدارت کے دوران تحفظ دیا گیا تھا جو اسلام کے خلاف تھا۔

مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ اب تاحیات کسی کو یہ تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کے بالکل خلاف ہے۔

مفتی تقی عثمانی نے کہا یہ اسثنیٰ ملک کیلئےنہایت شرمناک ہوگا، پارلیمنٹ کے ارکان سے درخواست ہے کہ وہ یہ گناہ اپنے سر نہ لیں۔

واضح رہے کہ سینیٹ نے صدر مملکت کو 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تاحیات استثنیٰ دینے کی ترمیم کثرت رائے سے مںظور کرلی۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صدر مملکت کے تاحیات استثنیٰ سے متعلق آرٹیکل 248 میں ترمیم پیش کی جسے کثرت رائے سے مںظور کرلیا گیا۔

ترمیم کے مطابق صدر مملکت کو تاحیات استثنیٰ حاصل ہوگا، عہدے سے سبک دوشی کے باوجود صدر مملکت کے خلاف کسی بھی کیس میں تاحیات کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکے گی۔

ترمیم یہ بھی کہا گیا ہے کہ عہدے سے سبک دوشی کے بعد اگر صدر نے کوئی عوامی عہدہ حاصل کیا تو استثنیٰ ختم ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے مطالبے پر اس شق کو 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں شامل کیا گیا تھا۔

Back to top button