خواجہ آصف کیخلاف 10 ارب ہرجانہ کیس میں وزیراعظم کو نوٹس

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے ن لیگی رہنما خواجہ آصف کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے مقدمے میں سوال کیا ہے کہ کیس میں التوا کا ذمہ دار کون ہے؟منگل کو عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کرنے کے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف خواجہ آصف کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ہائیکورٹ نے وزیراعظم کو نوٹس جاری کر کے مؤقف طلب کیا ہے۔

سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست پر دلائل میں خواجہ آصف کے وکیل علی شاہ جیلانی نے ہائیکورٹ کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے عمران خان کے بیان پر جرح کرنے کا حق ختم کر دیا ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ ہتک عزت کا یہ کیس کب سے زیر التوا ہے؟خواجہ آصف کے وکیل نے بتایا کہ یہ کیس 2012 کا ہے جبکہ 2021 میں سوالات وضع کیے گئے۔

ہم جس راستے پر چل رہے ہیں

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ’کیس میں اس التواء کا ذمہ دار کون ہے، کیا آپ کہتے ہیں کہ التوا عمران خان کی طرف سے ہوا؟وکیل نے جواب دیا کہ ٹرائل کورٹ میں التوا دونوں فریقوں کی جانب سے لیا گیا۔ جب سوالات وضع کیے گئے خواجہ آصف چھ ماہ کے لیے نیب کی حراست میں تھے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سنہ 2012 سے ہتک عزت کا یہ کیس تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔

اس عدالت نے ہدایت دی ہے کہ ہتک عزت کے کیسز جلد نمٹائے جائیں، ہتک عزت کے کیس کا تو دو ماہ میں فیصلہ ہو جانا چاہیے تھا۔خواجہ آصف کے وکیل نے بتایا کہ کیس فائل کرنے کے بعد ابتدا میں عمران خان نے پیروی نہیں کی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو عمران خان کی خواجہ آصف کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے میں کارروائی آگے بڑھانے سے روکتے ہوئے درخواست پر سماعت 12 جنوری تک ملتوی کر دی۔

Back to top button