26 نومبر احتجاج کیس: علیمہ خان عدالت پیش، جج کی چھٹی کے باعث سماعت نہ ہو سکی

26 نومبر کے احتجاج کیس کی سماعت کے سلسلے میں علیمہ خان انسداد دہشت گردی عدالت پیش ہوئیں،  تاہم جج امجد علی شاہ کی چھٹی کے باعث سماعت نہ ہو سکی، اور کیس کی سماعت 23 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

عدالت کے جج امجد علی شاہ کی چھٹی کے باعث سماعت نہ ہو سکی۔ عدالت نے آخری دونوں گواہوں یعنی تفتیشی افسران کو آئندہ تاریخ پیش ہونے کا حکم دیا۔ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے گئے، لیکن آئندہ تاریخ ہر صورت عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا گیا۔ وکیل صفائی کو دونوں آخری گواہوں پر جرح مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ علیمہ خان سمیت تمام 11 ملزمان عدالت میں موجود تھے، اور علیمہ خان کے گارنٹرز کے جاری شوکاز نوٹس بھی معطل کر دیے گئے۔

26 نومبر احتجاج کیس میں علیمہ خان کے 13ویں بار وارنٹ گرفتاری جاری

سماعت کے بعد علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بانی پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا پیغام پہنچایا، لیکن یہ اور دیگر مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں اور ایک دن میں ختم ہو جائیں گے۔

علیمہ خان نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے مسئلے کے سبب ان کی الشفاء ہسپتال میں منتقلی ضروری ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ مقررہ جج چھٹی پر ہونے کی وجہ سے کیسز سنیں۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ حکومت نے خان صاحب کے ساتھ تماشہ کیا اور فیملی و ذاتی معالج کی غیر موجودگی میں معائنہ کروایا گیا۔

علیمہ خان اور بشریٰ بی بی سے متعلق بیانات پر پی ٹی آئی کا گنڈاپور کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ

انہوں نے بتایا کہ آخری ملاقات میں خان صاحب نے کہا کہ یہ مجھے ختم کر دیں گے، جبکہ محسن نقوی نے فیملی اور ڈاکٹروں کی موجودگی میں علاج کی گارنٹی دی تھی۔ علیمہ خان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا اور ملاقات بھی کرائی نہیں جا رہی۔

Back to top button