26نومبراحتجاج کےمقدمات جلد سماعت کیلئےمقرر

انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے 26 نومبر کو ہونے والے احتجاج سے متعلق تین مقدمات کی جلد سماعت کا فیصلہ کرتے ہوئے 25 جولائی کو سماعت کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے سامنے پراسیکیوشن کی جانب سے درخواست دائر کی گئی، جس میں تین مقدمات — تھانہ صادق آباد کا مقدمہ نمبر 3393، تھانہ واہ کینٹ کا مقدمہ نمبر 839، اور تھانہ نصیر آباد کا مقدمہ نمبر 1862 — کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
پراسیکیوٹر سید ظہیر شاہ کی درخواست پر عدالت نے کارروائی کرتے ہوئے تینوں مقدمات کی سماعت 25 جولائی کو مقرر کر دی اور تمام نامزد ملزمان و وکلا کو نوٹس جاری کر دیے۔
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج 7 اگست تک چھٹیوں پر تھے، تاہم ان کی چھٹیاں منسوخ کر کے انہیں 26 نومبر احتجاج کے مقدمات کی سماعت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان مقدمات کی سماعت ہفتے میں تین سے چار روز کی جائے گی۔ ان مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور علیمہ خان سمیت متعدد رہنما نامزد ہیں، تاہم بانی چیئرمین کے خلاف چالان تاحال پیش نہیں کیا گیا۔
عدالت کا کہنا ہے کہ اگر بانی چیئرمین کے خلاف چالان جمع کرا دیا جاتا ہے تو مقدمات کا ٹرائل جیل میں کیا جائے گا، بصورت دیگر ٹرائل کچہری عدالت میں ہوگا۔
دوسری جانب، انسداد دہشت گردی عدالت نے انہی مقدمات میں عدم گرفتار ملزمان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں، جن میں سابق صدر عارف علوی، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور، شاہد خٹک، خالد خورشید، عمر ایوب، شہریار ریاض، اسد قیصر، فیصل امین، حماد اظہر اور دیگر شامل ہیں۔
پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے کر چھاپہ مار کارروائیاں بھی شروع کر دی ہیں۔
