اب پاکستان میں بھی پٹرول لائنوں میں لگ کر کوٹے پر ملے گا

 

 

 

پٹرولیم مصنوعات کی وافر مقدار میں دستیابی کے دعوؤں کے برعکس وفاقی حکومت نے آٹے اور چینی کے بعد اب عوام کو پٹرول کے حصول کیلئے بھی لائنوں میں لگنے کا عندیہ دے دیا ہے کیونکہ حکومت نے سستے پیٹرول کی فراہمی کو صرف موٹرسائیکلوں اور رکشوں تک محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد اب عوام کو سستا پٹرول بھی گھنٹوں لائنوں میں خوار ہونے کے بعد ہی دستیاب ہو گا جبکہ بڑی گاڑیوں کے لیے مہنگا پیٹرول خریدنا پڑے گا۔

 

خیال رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر بڑھتی پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں عوام کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کیلئے کوٹہ سسٹم نافذ کرنے بارے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔مجوزہ پیٹرول کوٹہ سسٹم کے تحت ہر شہری کو ایک مخصوص مقدار میں پیٹرول فراہم کیا جائے گا، جس کے لیے موبائل ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل واوچر تیار کرنا ہوگا۔ یہ کوٹہ صارف کے شناختی کارڈ اور گاڑی کے رجسٹریشن نمبر سے منسلک ہو گا، اور اسی کے مطابق اسے ایندھن ملے گا۔ یعنی آنے والے دنوں میں پاکستانیوں کو پٹرول پمپس پر پٹرول بھی راشن کی طرح لائنوں میں لگ کر ملے گا۔

 

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اس وقت دو ممکنہ آپشنز زیرِ غور رکھے ہوئے ہے، پہلا یہ کہ بین الاقوامی سطح پر بڑھتی پیٹرولیم قیمتوں کا بوجھ براہِ راست صارفین پر منتقل کر دیا جائے، اور دوسرا یہ کہ موٹر سائیکلوں (دو پہیہ) کے لیے 20 لیٹر اور رکشوں کے لیے 30 لیٹر تک کی ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جائے۔آئی ٹی کی وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ کے مطابق موٹر سائیکل سواروں کو سستا پیٹرول فراہم کرنے کے لیے ایک QR کوڈ سسٹم تیار کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے حکومت تقریباً 24,000 اسمارٹ اینڈرائیڈ فونز خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے، جن پر فیول سبسڈی ایپ استعمال کی جائے گی۔ اس اقدام کے نفاذ کے لیے چار سے چھ ہفتوں کے دوران تقریباً 300 ارب روپے درکار ہوں گے۔ صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ اگلے ہفتے ملاقات کریں گے تاکہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔

موٹر سائیکل اور رکشہ والوں کو سبسڈی پر پیٹرول فراہمی کا فیصلہ

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کو منظم کرنے کے لیے ایک خصوصی موبائل ایپ تیار کر رہی ہے، جس کے ذریعے صارفین اپنی گاڑی کا نمبر اور کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ درج کر کے رجسٹریشن کروائیں گے۔اس مجوزہ نظام کے تحت ہر شہری کے لیے اس کی ضرورت اور دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرول یا ڈیزل کا ایک مخصوص کوٹہ مقرر کیا جائے گا۔ یہ کوٹہ صارف کے شناختی کارڈ اور گاڑی کے رجسٹریشن نمبر کے ساتھ منسلک ہو گا، جبکہ اس کی حتمی حد کا فیصلہ متعلقہ کابینہ کمیٹی کرے گی۔حکام کے مطابق صارفین ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل واؤچر تیار کریں گے، جسے پیٹرول پمپ پر سکین یا انٹر کیا جائے گا۔ اس کے بعد سسٹم خودکار طریقے سے دستیاب کوٹے کی تصدیق کرے گا اور اسی کے مطابق ایندھن فراہم کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صارف 20 لیٹر پیٹرول طلب کرے لیکن اس کا کوٹہ 15 لیٹر ہو، تو اسے صرف 15 لیٹر ہی فراہم کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار کسی حد تک رمضان پیکیج ماڈل سے ملتا جلتا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق حکومت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے سبسڈی فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کے لیے پیٹرول پمپس پر مخصوص ڈسپنسر یا نوزلز مختص کیے جائیں گے تاکہ سبسڈی والے ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں حکومت سبسڈی دینے کی سکت نہیں رکھتی اور پیٹرول کی قیمتیں مزید بڑھانے سے عوامی ردعمل شدت اختیار کر سکتا ہے، اس لیے پیٹرول کے لیے کوٹہ سسٹم متعارف کروانے کی تیاری کی جا رہی ہے، تاہم ایران کے خلاف جاری جنگ کے طویل ہونے کے باعث پاکستان میں پیٹرول کی ممکنہ راشننگ شہریوں کے صبر اور برداشت کی نئی آزمائش ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق حکومت کی جاب سےیہ اقدام بنیادی طور پر ‘ڈیمانڈ مینجمنٹ’ پالیسی کے تحت صارفین کے رویے کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے، مگر اس کے نفاذ میں بلیک مارکیٹ، کرپشن اور تکنیکی رکاوٹوں کا خطرہ بھی موجود ہے تاہم اس کے باوجود یہ ڈیجیٹل کوٹہ سسٹم صارفین کی روزانہ ضروریات کے مطابق ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کرے گا اور استعمال کو محدود کرنے میں مددگار ثابت ہوگا

Back to top button