اب سرپرائز عمران نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتیں دیں گی

معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے اس حکومتی دعوے کے برعکس کہ تحریک انصاف سے منحرف ہونے والے اراکین پارٹی میں واپس آ رہے ہیں، اطلاع یہ ہے کہ عمران خان سے بغاوت کرنے والے اراکین کی تعداد میں تیزی سے بڑھ رہی ہے اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ والے دن کپتان کو اس حوالے سے بڑا سرپرائز ملنے والا ہے۔

جیو نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ میری پچھلے چند روز میں پی ٹی آئی کے منحرف ارکان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں جس کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک خاتون رکن قومی اسمبلی اور ان کے شوہر نے مجھے کہا کہ آپ لوگوں کو عمران خان کا امر بالمعروف والا ویڈیو کلپ نہیں چلانا چاہیے تھا، کیونکہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں اور عوام کو ایک مرتبہ پھر اپنا اقتدار بچانے کے لئے دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بقول حامد میر، منحرف اراکین قومی اسمبلی کا کہنا یے کہ ایک طرف عمران خان عوام میں جا کر کہہ رہے ہیں کہ یہ نیکی اور بدی کی جنگ ہے اور میرے اراکین اسمبلی کو پیسے دے کر خریدا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب وہ اپنے لوگ ہمارے پاس بھیج رہے ہیں تاکہ ہمیں واپس پارٹی میں لایا جا سکے، انکے بقول عمران خان جلسوں میں اپنے باغی اراکین کو واپس آنے کے لیے بھی کہہ رہے ہیں۔

عمران نے اپنے باغی اراکین کو یہ پیغام دیا ہے کہ میں تمہیں باپ بن کر معاف کردوں گا لہذا واپس آ جاؤ، تمھیں کچھ نہیں کہا جائے گا، لہذا منحرف اراکین کا یہ سوال ہے کہ اگر ہم غلط ہیں اور پیسے لے کر بک گے ہیں تو پھر ہمیں واپس بلا کر وہ کون سی نیکی اور بدی کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا، لیکن اپنے باغی اراکین کو واپس بلا کر وہ انہیں این آر او دینا چاہتے ہیں۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ عمران خان کا اپوزیشن کو این آر او دینے کا وقت گزر چکا، اب تو حزب اختلاف کہہ رہی ہے کہ ہم عمران خان کو این آر او نہیں دیں گے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک کے میزبان کامکینا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کا میچ ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جسکا فیصلہ اب ہو کر رہنا ہے چونکہ اسپیکر قومی اسمبلی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ میں مذید تاخیر نہیں کر سکتے۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ کپتان کے خلاف عدم اعتماد کا میچ نہ تو ڈرا ہوگا اور نہ ہی وہ اسے جیت پائیں گے کیونکہ ان کی شکست دیوار پر لکھی جا چکی ہے۔ کپتان کی جانب سے ترپ کا آخری پتہ کھیلتے ہوئے 27 مارچ کو ایک سرپرائز دینے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ ان کے پاس کسی قسم کا کوئی سرپرائز باقی نہیں بچا بلکہ اب سرپرائز دینے کی باری اپوزیشن جماعتوں کی ہے۔

حامد میر نے کہا کہ عمران خان جو ممکنہ سرپرائز دے سکتے ہیں ان میں پہلا ایک پاور فل آفس ہولڈر کو ڈی نوٹیفائی کرنا ہو سکتا ہے، دوسرا سرپرائز عثمان بزدار کو ہٹا کر انکی جگہ کوئی ایسا وزیر اعلی لگانا ہو سکتا ہے جو جہانگیر ترین گروپ کو قابل قبول ہو۔ تیسرا ممکنہ سرپرائز اپوزیشن کو قبل از وقت الیکشن کی پیشکش کرنا اور سمجھوتہ کرنا ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ان میں سے کوئی بھی آپشن عمران خان کو اقتدار سے بے دخل ہونے سے نہیں بچا سکتی۔
Now the opposition parties will give the surprise not Imran

Back to top button