اب سپریم کورٹ بھی عمران خان کو کیوں نہیں بچا سکتی؟

کپتان حکومت کی جانب سے دائر کردہ صدارتی ریفرنس پر اگر سپریم کورٹ یہ طے کر بھی دے کہ تحریک عدم اعتماد پر گنتی کے دوران تحریک انصاف کا کوئی رکن اسمبلی وزیر اعظم کے خلاف ووٹ ڈالنے پر نا اہل ہو جائے گا تب بھی عمران خان کا بچنا محال ہے کیونکہ منحرف اراکین ایسا فیصلہ آنے پر اپنی سیٹوں سے مستعفی ہو جائیں گے جس کے نتیجے میں عمران خان اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھیں گے اور اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویسے تو سپریم کورٹ اس طرح کا فیصلہ دے کر اپنے اختیارات سے تجاوز کرے گی کیونکہ یہ آئین کی تشریح نہیں بلکہ اس میں ترمیم کے مترادف ہوگا، لیکن اگر سپریم کورٹ ایسا کر بھی دے تب بھی وزیر اعظم کا بچنا محال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سپریم کورٹ کے کندھے پر بندوق رکھ کر تحریک عدم اعتماد ناکام بنوا بھی دے تب بھی حکومت ایک ہفتے سے ذیادہ نہیں چل پائے گی کیونکہ باغی اراکین اسمبلی کی جانب سے استعفے دیے جانے کے بعد وہ قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کھو بیٹھیں گے۔

دوسری جانب اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے، وزیر اعظم عمران خان کا بچنا ممکن نہیں کیونکہ ان کی اتحادی جماعتیں ان کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی ہیں اور ڈیفیکشن کا قانون اتحادیوں پر لاگو نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ 24 مارچ کو سپریم کورٹ میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 کی روح کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس کا بنیادی مقصد ہارس ٹریڈنگ کو روکنا ہے۔

تاہم دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیکل 63 کے تحت ہر رکن اسمبلی کو اپنا ووٹ اپنی مرضی کے مطابق ڈالنے کا اختیار ہے اور ایسا کرنے پر نااہلی کا اطلاق نہیں ہوتا۔

اسی موضوع پر اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ہمارے تحریری آئین کا تقاضا تھا کہ قومی اسمبلی کے دفتر میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہوجانے کے بعد عمران حکومت مارچ کی 21 تاریخ تک ایوان کا اجلاس ہر صورت طلب کرتی۔ لیکن اس آئینی تقاضے سے ڈھٹائی کے ساتھ گریز برتا جا رہا یے۔ اب سپریم کورٹ کے روبرو ایک صدارتی ریفرنس بھی پیش کر دیا گیا ہے اور یہ کاوش ہو رہی ہے کہ تحریک انصاف کے ناراض اراکین قومی اسمبلی کو ”ان کے گھر میں ڈرا“ دیا جائے تاکی تا حیات نا اہلی کے خوف سے وہ عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالنے سے قبل سو بار سوچیں۔

لیکن نصرت جاوید کہتے ہیں کہ تحریک انصاف سے بغاوت کو آمادہ جو اراکین قومی اسمبلی کیمروں کے روبرو آچکے ہیں وہ اب اپنی رائے کسی صورت نہیں بدلیں گے۔ ان کی اکثریت ”خاندانی“ سیاست دانوں پر مشتمل ہے۔ ان کے ڈیرے اور دھڑے ہیں۔ کیمروں کے روبرو آ جانے کے بعد ان کے خلاف شہباز گل جیسے وزیر اعظم کے مصاحبین نے جو زبان استعمال کی ہے اس کے بعد وہ اپنی رائے بدلنے کے متحمل ہوہی نہیں سکتے۔

ان میں سے چند اراکین کے گھروں کے باہر جمع ہوئے لونڈے لپاڑوں نے انہیں ”بکری“ بنانے کی کوشش بھی کی۔ اپنے کارکنوں کی جانب سے اپنائے جارحانہ رویے کے باوجود عمران خان نے ایک ”مشفق والد“ کی طرح ناراض اراکین کو ”معاف“ کردینے کی پیش کش کی۔ ایسا کرتے ہوئے مگر بھول گئے کہ ڈیروں اور دھڑوں والے کامل بے عزتی کے بعد معافی کے طلب گار نہیں ہوتے۔ ”انج اے تے فیر انج ای سئی“ والا رویہ اختیار کرنے کو مجبور ہو جاتے ہیں
۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اپنے خلاف ہوئی بغاوت پر قابو پانے کے لئے آئین کے آرٹیکل 63۔ A کی سپریم کورٹ کے ذریعے ”تشریح“ کی طلب گار ہوتے ہوئے عمران حکومت اس حقیقت کو فراموش کرچکی ہے کہ ہمارے ہاں 1993 کا برس بھی آیا تھا۔ اس برس کے اپریل میں آٹھویں ترمیم کے اختیارات سے مالا مال صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی پہلی حکومت کو برطرف کر دیا تھا۔

نواز شریف نے اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ روزانہ ہوئی سماعت کے بعد ان دنوں کی سپریم کورٹ نے برطرف ہوئی حکومت کو بحال کر دیا۔ اس ضمن میں جو فیصلہ تحریر ہوا اسے ان دنوں کے سپیکر گوہر ایوب نے پارلیمان ہاؤس کی دیواروں پر کندہ کرنے کا حکم دیا۔ پارلیمان کی راہداریوں میں گھومتے ہوئے آج بھی وہ ”تاریخی فیصلہ“ آپ دیواروں پر لکھا ہوا پڑھ سکتے ہیں۔

اس کے ہوتے ہوئے بھی لیکن 1996 میں جسٹس سجاد علی شاہ کی سپریم کورٹ نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی صدر فاروق لغاری کے ہاتھوں برطرفی کو قانونی اور آئینی اعتبار سے واجب ٹھہرایا۔ 12 اکتوبر 1999 کی رات منتخب حکومت کے خلاف جنرل مشرف کے لئے اقدامات بھی سپریم کورٹ ہی کے ہاتھوں ”حلال“ ٹھہرائے گئے تھے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ سیاسی بحران کا اعلیٰ عدالتوں کے پاس ”حل“ میسر ہی نہیں ہوتا۔ فرض کرلیتے ہیں کہ صدارتی ریفرنس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ یہ طے کردیتی ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر گنتی کے دوران تحریک انصاف کا کوئی رکن قومی اسمبلی وزیر اعظم کے خلاف ووٹ ڈالے گا تو تاحیات اسمبلی کی رکنیت کا اہل نہیں رہے گا۔

آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کا حق سیاسی جماعت کا ہوتا ہے

ایسا فیصلہ اگر آیا تب بھی عمران حکومت کو استحکام فراہم نہیں کرپائے گا۔ تحریک عدم اعتماد پر گنتی سے قبل قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر تحریک انصاف کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے افراد ”تاحیات نا اہلی“ کے دام کو جل دے سکتے ہیں۔ اس کی بدولت اپوزیشن جماعتیں اپنی تحریک کی حمایت میں 172 اراکین دکھانے میں شاید ناکام رہیں۔ اس کے بعد مگر عمران خان صاحب بھی 342 کے ایوان میں اکثریت سے محروم ہوجائیں گے۔

نصرت کہتے ہیں کہ اگر عمران خان سے ناراض اراکین قومی اسمبلی سے مستعفی ہو گئے تو اپوزیشن جماعتیں مجبور ہوجائیں گی کہ انکی ”قربانی“ کو اپنے اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کے ذریعے ”خراج“ پیش کریں۔ اس کے نتیجے میں 150 سے زیادہ نشستوں پر ”ضمنی انتخاب“ کروانا ہوں گے۔ یوں ”سیاسی بحران“ گمبھیر سے گمبھیر تر ہو جائے گا۔

Now why can’t the Supreme Court save Imran Khan? Urdu news

Back to top button