چیف جسٹس بندیال اکثریتی فیصلہ ماننے سے انکاری کیوں؟

سینئر صحافی نصرت جاوید کہتے ہیں کہ کہنے کو ہمارے ہاں ریاست کو قواعد وضوابط کو لگام ڈالنے کے لئے ایک ”تحریری آئین“ موجود ہے۔اس نوعیت کے آئین کے ہوتے ہوئے ابہام کی گنجائش نکالنا کافی دشوار ہوتا ہے۔ سیاست کی بدولت ابھرے قضیے مگر ابہام کی کیفیت اُجاگر کر ہی دیتے ہیں۔اس کے ازالے کے لئے بھی تاہم ہمارے آئین ہی نے ایک ادارہ قائم کر رکھا ہے۔نام ہے اس کا سپریم کورٹ۔ معاملہ اس کے روبرو رکھا جائے تو ابہام ختم ہو جانا چاہئے تاہم گزشتہ چند دنوں سےابہام سے نجات دلانے کے لئے قائم ہوا یہ ادارہ بھی الجھنیں بڑھا رہا ہے۔ طے نہیں ہو پا رہا کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ دینے کو مجبور کرنے والا ”فیصلہ“آیا بھی تھا کہ نہیں۔ یہ سوال اٹھانے کے باعث 27 صفحات پر مشتمل ایک اور ”فیصلہ“ ہے جو رواں ہفتے کے آ غاز میں سرعام ہوا۔ اسے غور سے پڑھیں تو چار عزت مآب ججوں نے نظر بظاہر سپریم کورٹ کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات یقینی بنانے کے سوال سے لاتعلق رکھنے کی کوشش کی تھی۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ مبینہ ”اکثریتی“ فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ کا ایک بنچ ان دنوں چیف جسٹس صاحب کی سربراہی میں 30 اپریل والی تاریخ موخر ہوجانے کے عمل پر سوالات کیوں اٹھا رہا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید مزید کہتے ہیں کہ بدھ کی شام دو عزت مآب ججوں کی جانب سے لکھا ایک اور فیصلہ بھی منظر عام پر آگیا۔ یہ فیصلہ ازخود نوٹس کے حوالے سے چیف جسٹس صاحب کو حتمی اختیار دینا مناسب تصور نہیں کرتا۔ اس عمل کو چند قواعد وضوابط کے تحت چلانا چاہ رہا ہے۔اس فیصلے کے منظر عام پر آنے سے قبل شہباز حکومت بھی انگڑائی لے کر بیدار ہو چکی تھی، نہایت عجلت میں اس نے قومی اسمبلی سے ایک قانون منظور کروایا۔ قانون”از خود نوٹس“ کے اختیار کو قواعد وضوابط کی لگام ڈالنے کا خواہاں ہے۔ اس کی منظوری سے قبل وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے دھواں دھا ر تقاریر بھی فرمائیں۔ مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کے سربراہان نے اپنی تقاریر کے ذریعے ”ازخود نوٹس“ کی بدولت”فرعون“ ہوئے افراد کے لئے اقدامات کے خلاف اپنے دلوں میں جمع ہوئے غصے کا اظہار بھی کردیا۔ قضیہ اس کے باوجود ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے عزت مآب ججوں کے مابین تقریباًروزانہ کی بنیاد پر نمودار ہوتے اختلافات ہمارے ذہنوں کو ماﺅف کرنے کو کافی تھے۔ رعایا کو مگر مزید اضطراب میں مبتلا کرنے کے لئے حال ہی میں ریٹائر ہوئے جنرل باجوہ کے مبینہ انٹرویو کی تیسری قسط بھی مارکیٹ میں آگئی ہے۔ ”مبینہ“ کا لفظ میں اس وجہ سے استعمال کرنے کو مجبور ہوا ہوں کیونکہ مذکورہ ”انٹرویو“ کی دوسری قسط آنے کے بعد باجوہ صاحب نے ہمارے دو معتبر ساتھیوں – منصور علی خان اور سلیم صافی- سے ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کی۔اس کے دوران مصر رہے کہ انہوں نے شاہد میتلا کو کوئی ”انٹرویو“ دیا ہی نہیں۔ یہ تاثر بھی دیا کہ وہ ”جھوٹا انٹرویو“ منظر عام پر لانے والے کے خلاف قانونی کارروائی کرنا چاہیں گے۔”قانونی کارروائی“ کی دھمکی مگر شاہد میتلا کو تیسری قسط منظر عام پر لانے سے روک نہ پائی۔ یہ قسط گزشتہ دوقسطوں سے کہیں زیادہ سنسنی خیز ہے۔باجوہ صاحب نے اس کے ذریعے نواز شریف کے مرحوم والد کو بھی نہیں بخشا۔ ”حیف ہے اس قوم پر….“ کی دہائی مچانے والے ایک سابق جج کے دل میں مبینہ طورپر موجود عصبیت کی غیبت بھری ”وجہ “بھی اپنے تئیں ”عیاں“ کر دی۔ تین نہیں کامل چھ برس تک وطن عزیز کے طاقت ور ترین ادارے کے سربراہ ر ہے باجوہ صاحب کی رعونت آمیز گفتگو کے اسباب فطری ہیں۔ اپنی رعونت کو وہ سیاستدانوں کی تذلیل تک ہی محدود رکھتے تو شاید میں پریشان نہ ہوتا۔
نصرت جاوید کا مزید کہنا یے کہ ”یونٹی آف کمانڈ“ عسکری ادارے کی ساکھ،توقیر اور اثرپذیری کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔اپنے مبینہ ”انٹرویو“ کی چھپی اقساط کی بدولت با جوہ صاحب مگر اپنے مادرادارے کو بے توقیر کئے چلے جارہے ہیں۔تاثر پھیلارہے ہیں کہ ان کے ”ماتحت“ افسران بسا اوقات ایسے معاملات میں ملوث رہے جو ”مادر ا دارے“ کے لئے شرمندگی اور نقصان کا باعث ہوئے۔باجوہ صاحب یہ سب کرتے ہوئے خود کو سادہ ، معصوم اور انسان دوست ثابت کرنے کے ہذیان میں مبتلا محسوس ہو رہے ہیں۔
نصرت جاوید کا مزید کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کا دعویٰ ہے کہ فیض حمید جیسے ”ماتحت“ اپنے تئیں کچھ افراد کو عتاب کا نشانہ بناتے رہے۔ وہ اس ضمن میں اکثر بے خبر رہے۔ چند ”زیادیتوں“ کا علم ہوجاتا تو ”ادارے کی توقیر“ انہیں شرمسار ہونے کو مجبور کر دیتی۔ باجوہ صاحب تک رسائی حاصل کرنے کی میں نے ان دنوں بھی کبھی کوشش نہیں کی جب وہ شہنشاہی اختیارات سے مالامال تھے۔ خلوتوں میں اپنے پسند کے صحافیوں سے گپ شپ انہیں علت کی طرح لاحق تھی۔ اب مگر ان تک رسائی کا شدت سے متمنی ہوں۔ان سے اگر کسی صورت رابطہ ہوجائے تو ان کے روبرو فقط ایک سوال اٹھانے تک محدود رہوں گا۔ وہ سوال یہ ہے کہ اگر بطور چیف وہ اتنے ہی ”بے بس“ اور ”بے اثر“ تھے تو اپنے عہدے کی معیاد ملازمت میں تین سال تک پھیلی توسیع کو سو حربے استعمال کرتے ہوئے یقینی کیوں بنایا۔ اپنی محدودات کو بخوبی جان لینے کے بعد ریٹائرہوکر گھر بیٹھ جاتے۔ بچوں سے کھیلتے اور اللہ اللہ کرتے۔
نصرت جاوید کا کزید کہنا ہے کہ باجوہ صاحب کی اختیار کردہ سادگی درحقیقت غالب کی بیان کردہ ”پرکاری“ ہے۔ تغافل میں ”جرات آزما“ ہوتے ہوئے لیکن وہ اپنے مادر ادارے کو نقصان پہنچائے چلے جا رہے ہیں۔ ان کی ہذیان بھری گفتگو ہمارے دائمی دشمنوں کے پھیلائے کئی الزامات درست ثابت کرنے کو ٹھوس مواد فراہم کر رہی ہے۔ خدارا ہمیں یہ تاثر نہ دیجئے کہ ”یونٹی آف کمانڈ“ باقی نہیں رہی۔ ہوش کے ناخن لیں اور ہم پر رحم کریں۔ ہمارے اذہان کو ماﺅف اور مستقل ہیجان میں گرفتار رکھنے کو تخت یا تختہ والی جنگ میں مصروف سیاستدان کافی ہیں۔اب تو سپریم کورٹ بھی معاملات کو مزید مبہم بنانا شروع ہو گئی ہے۔
