سائبر کرائمز روکنے کے ذمہ دار افسران سائبر مافیاز کے سرغنہ نکلے

 

 

 

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں مالی بدعنوانی اور کرپشن سے متعلق تحقیقات سنگین شکل اختیار کر گئی ہیں۔ سائبر کرائمز میں ملوث ملزمان کی سرپرستی کرنے والے افسران کے خفیہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں ادارے کے اندر موجود مبینہ ڈیٹا مافیا اور اس کی برسوں سے جاری سرگرمیوں کے اہم پہلو بے نقاب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے جاری تحقیقات کا معاملہ اس وقت سنگین رخ اختیار کر گیا جب امریکا میں مقیم ایک پاکستانی نژاد شہری نے ڈیجیٹل فراڈ، مرچنٹ اکاؤنٹس کے غلط استعمال اور سرکاری اختیارات سے تجاوز کے ٹھوس شواہد براہِ راست ڈی جی ایف آئی اے کو بھجوا دیے، جن کے سامنے آتے ہی پورا ادارہ شدید اضطراب اور ہلچل کا شکار ہو گیا۔ جس کے بعد جاری تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے اسلام آباد اور لاہور کے بعد کراچی تک پھیلا دیا گیا ہے۔  ذرائع کے مطابق کراچی زون کے ڈائریکٹر سمیت سات افسران کے خلاف ایف آئی اے نے باضابطہ انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔

 

 

 

 

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق این سی سی آئی اے میں بدعنوانی کا یہ سلسلہ محض چند شکایات یا چند کارروائیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ادارے کے اندر یہ ایک منظم نظام بن چکا۔ جس میں سائبر کرائم ایجنسی کے اپنے افسران کی جانب سے ملزمان سے ضبط شدہ ڈیٹا کو ڈیجیٹل کرنسی ” کی شکل دے کر اسے مستقل آمدنی کے ذریعے میں تبدیل کرنے کا مکروہ دھندہ بھی جاری ہے۔ سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کو ایف آئی اے سے علیحدگی کے بعد ملنے والے تکنیکی اختیارات نے اس ضمیر فروش گروہ کو خفیہ فائلز اور ڈیٹا تک  ایسی غیر معمولی رسائی فراہم کی جس کے ذریعے وہ نہ صرف حساس معلومات تک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں۔ بلکہ اس ڈیٹا کو وہ مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس مکروہ دھندے میں قانونی کال سینٹرز پر جعلی کارروائیاں کی گئیں ، غیر ملکی شہر یوں کا ذاتی اور کاروباری ڈیٹا ضبط کیا گیا اور چھاپوں کے دوران اٹھائی گئی ای میلز ، کسٹمر ریکارڈز، آئی پی لاگز اور مرچنٹ پورٹلز کی تفصیلات مخصوص کاروباری گروہوں کو دباؤ میں لینے یا سودے بازی کے لیے استعمال کی گئیں۔

 

ذرائع کے بقول ضبط شدہ ڈیٹا اکثر این سی سی آئی اے کے افسران کیلئے دو طریقوں سے کام آتا تھا۔ ایک طرف اس ڈیٹا کو وہ خفیہ مارکیٹ میں فروخت کر کے ڈالرز کماتے تھے جبکہ دوسری طرف کچھ محفوظ“ کال سینٹرز کو یہ ڈیٹا بطور سرمایہ فراہم کیا جاتا تا کہ ادارے کے اندر چھپی کالی بھیڑوں کو مستقل مالی فائدہ ملتا رہے۔ ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے میں پورا ماڈل اس طرز پر چلا یا جاتا تھا کہ پہلے چھاپہ مارا جاتا، پھر ڈیٹا ضبط کیا جاتا، بعد ازاں الزام لگا کر گفتگو کا راستہ کھولا جاتا اور آخر میں ایک خفیہ ڈیل کے نتیجے میں ماہانہ ادائیگی طے کی جاتی ہے۔ اس تمام عمل میں ضبط شدہ معلومات کو دوبارہ فروخت کے قابل مال سمجھا جاتا ہے جسے بار بار فروخت کر کے مسلسل آمدن حاصل کی جاتی تھی

 

تحقیقات سے منسلک ذرائع کے مطابق پاکستانی نژاد امریکی شہری اشفاق احمد کی درخواست نے اس پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ درخواست گزار نے اس حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ این سی سی آئی اے افسران کی جانب سے اس کے مرچنٹ اکاؤنٹس کو استعمال کرتے ہوئے 82 ہزار 190 ڈالر کی ٹرانزیکشنز کی گئیں لیکن 6 ہزار 900 ڈالر کا بل ادا نہیں کیا گیا۔ بعد میں دانستہ طور پر 58 ہزار 205 ڈالر کے چارج بیک کرائے گئے اور ان تمام کارروائیوں کے بعد 19 ہزار 500 ڈالر کی نقد رقم پاکستان میں ہی وصول کی گئی۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ مرچنٹ کمپنی کو سرکاری عہدوں، جعلی دستاویزات اور غلط بیانات کے ذریعے گمراہ کیا گیا، جس کے باعث درخواست گزار کا کریڈٹ اسکور شدید متاثر ہوا ۔

 

مبصرین کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی پاکستانی ادارے کے خلاف ایسے براہ راست شواہد بیرون ملک سے ملے ہیں جن میں ڈیٹا چوری، مالی دھوکا دہی اور بین الاقوامی فنانشل نظام سے چھیڑ چھاڑ شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے جاری تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے اندرونی معاملات صرف دو افسران کی سطح تک محدود نہیں تھے ۔ بلکہ جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کے حوالے سے ایجنسی کے اندر دو بڑے دھڑے موجود تھے۔ ایک دھڑا آپریشنل ونگ پر مشتمل تھا جبکہ دوسرا ڈیٹا ایکسیس ونگ‘ کہلا تا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ منافع بخش کال سینٹرز ، مرچنٹ نیٹ ورکس اور بین الاقوامی آئی ٹی مراکز میں رسائی رکھنے والا دوسرا دھڑا زیادہ اثر و رسوخ رکھتا تھا۔ تاہم دونوں دھڑوں کے ایف آئی اے کے ریڈار پر آنے کے بعد کئی افراد دفاتر سے غائب ہو گئے ہیں جبکہ کچھ نے عارضی رخصت لے کر بیرونی رابطے محدود کر دئیے ہیں۔

سہیل آفریدی نے اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست ٹکر کیوں لے لی؟

ذرائع کے مطابق نئے ڈی جی خرم علی کی تعیناتی کے فوراً بعد یہ سارا معاملہ ان کے سامنے آیا۔ جس کے بعد انھوں نے اس پر ماضی کی طرح پردہ ڈالنے کی بجائے متعلقہ ریکارڈ کھلوا کر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں کراچی کے ڈائریکٹر، دو ڈپٹی ڈائریکٹرز ، تین انویسٹی گیشن افسران اور ایک ٹیکنیکل اہلکار کے خلاف انکوائری شروع ہو چکی ہے، جبکہ مزید نام جلد سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر این سی سی آئی اے افسران پر الزامات ثابت ہو گئے تو معاملہ محض اندرونی نظم و ضبط کی خرابی تک محدود نہیں رہے گا۔ بلکہ متعلقہ افسران کے خلاف پیکا ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی، پبلک سروس ایکٹ کے تحت اختیارات کے ناجائز استعمال اور بین الاقوامی ڈیٹا سیکورٹی میکانزم کی خلاف ورزی کے تحت بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور انھیں نشان عبرت بنایا جائے گا۔

 

Back to top button