اگلے ہفتے پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

 

 

 

 

عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمت کے باوجود حکومت پاکستان نے ابھی تک ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں صرف 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے، لیکن اب اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کی جنگ جاری رہتی ہے تو اگلے ہفتے سے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی سبسڈی ختم کرتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ جائے گا۔

 

یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش، نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر دھکیل دیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جو مسلسل دوسرے ہفتے اضافے کے رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مسلسل دوسرے ہفتے بھی برقرار رکھا گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے نشری خطاب میں کہا کہ ان کی بھرپور کوشش ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر نہ ڈالا جائے۔

 

خیال رہے کہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد 7 مارچ کو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد موجودہ قیمت 322 روپے فی لیٹر پر برقرار ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں 95 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی سمری مسترد کر دی تھی۔ اپنی تقریر میں انکا مؤقف تھا کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والا مکمل اضافہ عوام کو منتقل کیا جاتا تو پیٹرول کی قیمت 544 روپے اور ڈیزل 790 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت اب تک 125 ارب روپے کا بوجھ برداشت کر چکی ہے۔

 

وزیراعظم کے مطابق عوام کو یہ ریلیف براہِ راست سبسڈی کی صورت میں نہیں بلکہ کفایت شعاری، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور اخراجات میں کمی کے ذریعے دیا گیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 100 ارب روپے ترقیاتی فنڈز سے جبکہ 25 ارب روپے دیگر بچتوں سے حاصل کیے گئے۔ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق حکومت نے ابتدائی طور پر 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے سپلائی چین کو مستحکم رکھا اور بحران سے نمٹنے کے لیے وقت حاصل کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس وقت براہ راست سبسڈی نہیں دے رہی بلکہ متبادل مالی اقدامات کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے، جن میں سرکاری اخراجات میں کمی، گھروں سے کام کی پالیسی اور ایندھن کی کھپت کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔

 

دوسری جانب ماہرین معیشت خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں طویل عرصے تک ریلیف دینا ممکن نہیں اور حکومت کو آج نہیں تو کل پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا کیونکہ جنگ ختم ہوتی نظر نہیں آتی جس سے بحران شدید تر ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان نے رواں مالی سال کے بجٹ میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل رکھی تھی، جبکہ موجودہ قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر 10 ڈالرز اضافے سے پاکستان کو سالانہ ڈیڑھ سے 2 ارب ڈالرز اضافی خرچ کرنا پڑتا ہے۔

 

پاکستان سالانہ 16 سے 18 ارب ڈالرز کا خام تیل درآمد کرتا ہے، لیکن آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اس درآمدی بل میں مزید اضافہ کر سکتی ہے، جس کے اثرات براہِ راست معیشت اور مہنگائی پر پڑیں گے۔ حکومت پاکستان کے پاس فی الحال چار ہفتوں کے لیے تیل کا ذخیرہ موجود ہے، تاہم اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ ایسے میں حکومت ٹارگٹڈ سبسڈی، پیٹرول کی راشن بندی اور کم آمدن والے طبقے کے لیے خصوصی ریلیف پروگرامز پر غور کر رہی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل اور رکشہ صارفین کے لیے محدود سبسڈی، اور کیو آر کوڈ کے ذریعے شفاف تقسیم کا نظام متعارف کرانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اس کے علاوہ مارکیٹوں کے اوقات کار محدود کرنے اور دفاتر میں حاضری کم کرنے جیسے اقدامات بھی زیرِ غور ہیں تاکہ ایندھن کی کھپت کم کی جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق وفاق اور صوبے مل کر تقریباً 300 ارب روپے کا ریلیف پیکج ترتیب دے سکتے ہیں۔

 

اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت کے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو عالمی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل کیا جائے یا محدود طبقے کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے۔ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوئی اور تیل کی فراہمی متاثر ہوئی تو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی معیشت بھی بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایندھن کی قلت سے شرح نمو میں 2 فیصد تک کمی اور مہنگائی میں 12 سے 15 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے تک ریلیف دینے کی صورت میں سبسڈی کا حجم اربوں روپے تک پہنچ سکتا ہے، جو مالیاتی نظم و ضبط کے لیے خطرہ بنے گا۔

آبنائےہرمزنہ کھولنےپرٹرمپ کی ایران کی تیل کی تنصیبات کونشانہ بنانےکی دھمکی

یاد رہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ کے دوران بھی پاکستان کو اسی طرح کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت نے سبسڈی دی تھی جسکے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ کا شکار ہو گئے تھے۔ موجودہ صورتحال میں حکومت اخراجات میں کمی کے ذریعے ریلیف دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو آئندہ ہفتے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق ممکنہ طور پر مشکل فیصلے متوقع ہیں۔

 

Back to top button