سوشل میڈیا پر وائرل ایک لاکھ نودولتیے FBRکے ریڈار پر

ایف بی آر نے سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والے ٹیکس چوروں کیخلاف کمر کس لی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے نہ صرف ایک لاکھ بڑے ٹیکس چور نودولتیوں کو شارٹ لسٹ کرتے ہوئے ان کی آمدن اور اخراجات کا آڈٹ شروع کر دیا ہے بلکہ صوبائی دفاتر کو اپنے اپنے متعلقہ علاقوں میں انفلوئنسرز کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی بھی ہدایات جاری کر دی ہیں جس کے بعد ٹیکس نا دہندگان سوشل میڈیا سٹارز کا ایف بی آر کے شکنجے سے بچ نکلنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
ایف بی آرذرائع کے مطابق انفلوئنسرز اور دیگر افراد کی مالی سرگرمیوں کا جائزہ لینے اور ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی کیلئے انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران جن افراد کی دولت اور اخراجات مشکوک پائے جائیں گے انہیں نوٹسز جاری کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی آمدن کے ذرائع واضح کریں۔ تاہم آمدن اور اخراجات میں فرق سامنے آنے کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف ٹیکس چوری کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ ایف بی آر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی پرتعیش گاڑیوں، بنگلوں، زیورات اور دیگر مہنگی اشیا کی نمائش کرنے والے افراد کا ڈیٹا جمع کر رہا ہے تاکہ ٹیکس چوری کو روکتے ہوئے متعلقہ افراد کی آمدن کے ذرائع کی تصدیق کی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے پہلے مرحلے پر ٹیکس ریٹرنز میں ہیر پھیر کرنے والے ایک لاکھ امیر افراد کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان ایک لاکھ افراد میں ان لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں اور وہ ان ویڈیوز میں ہزاروں، لاکھوں ڈالرز کے مہنگے ملبوسات پہنے شادیوں پر بے تحاشا اخراجات کرتے اور شادی کی تقریبات پر پیسہ اچھالتے اور ڈالرز لٹاتے نظر آ رہے ہیں۔
ایف بی آر حکام کے مطابق اس ساری صورتحال میں غور طلب بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنی دولت کی نمائش کرنے والوں میں سے اکثر افراد اپنے انکم ٹیکس گوشوارے ہی جمع نہیں کراتے۔ جس کی وجہ سے ہی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جاری تحقیقات میں جن افراد کے اخراجات اور ظاہر کردہ آمدن میں واضح فرق ہوگا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے لیے ایف بی آر نے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے جس کے تحت سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور دیگر افراد کی مالی سرگرمیوں کی چھان بین کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے فی الحال کسی قسم کی مخصوص شارٹ لسٹنگ نہیں کی گئی تاہم بورڈ کے صوبائی دفاتر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں۔ اب ایف بی آر کے تمام علاقائیچدفاتر اپنے دائرہ اختیار میں موجود افراد کی چھان بین کریں گے اور دیکھیں گے کہ کون سا فرد سوشل میڈیا پر اپنی دولت کی نمائش کر رہا ہے اس کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ کیا وہ ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہے؟ کیا اس کے اخراجات اور آمدن میں مطابقت موجود ہے؟ حکام کے مطابق اس حوالے سے کسی قسم کا تضاد سامنے آنے کی صورت میں متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کیا جائے گا اور ان کی دولت کے ذرائع اور ٹیکس ادائیگیوں کی تحقیقات کی جائیں گی جبکہ ٹیکس چوری میں ملوث افراد کی گرفتاری اور مالی ضبطگی سمیت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس کریک ڈاؤن کے دوران ایف بی آر کو سوشل میڈیا ڈیٹا کی توثیق سمیت کئی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ بہت سے کیسز میں سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی دولت غیر حقیقی بھی ہوسکتی ہے۔
