ایک کے بعد ایک جنگ

تحریر : حماد غزنوی
بشکریہ : روزنامہ جنگ
اس سال جس فلم کو بہترین فلم کا آسکر ایوارڈ ملا ہے اس کا نام ہے "ون بیٹل آفٹر این ادر” (ایک کے بعد ایک جنگ) یعنی یکے بعد دیگرے جنگیں، یعنی جنگیں ہی جنگیں۔ اس سال ایوارڈ کیلئے اس سے زیادہ موزوں نام کی کوئی فلم ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ اس کرہ پر جدھر نگاہ دوڑائیں لگتا ہے یہی فلم نمائش پذیر ہے، ون بیٹل آفٹر این ادر۔ اس عالمی فلم کے ہدایت کار کا دعوی ہے کہ یہ فلم "پبلک کے پرزور اصرار” پر پیش کی گئی ہے، اوراسکی "کامیاب نمائش جاری ہے” اور یہ "شرطیہ نیا پرنٹ” ہے۔ آئیں، مختلف براعظموں کی جھلکیاں دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ دعوے کتنے سچے یا کتنے بودے ہیں۔”پبلک کے پُرزور اصرار” کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ امریکیوں کی اکثریت ایران پر امریکی حملے کے خلاف ہے، ویت نام جنگ میں امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ کے خلاف ہونے میں چار پانچ سال لگے تھے مگر ایران جنگ میں پہلے دن سے ہی یہ عالم ہے۔ ویت نام میں دعوی کیا گیا تھا کہ پبلک کے پرزور اصرار پر کمیونسٹ رجیم چینج کی جائیگی، جبکہ امریکی حملے کے بعد ویت نام قومی جذبے کے تحت اکٹھا ہو گیا تھا، ایران کے بارے میں بھی کچھ ایسے ہی دعوے کیے گئے تھے جو اوندھے منہ پڑے ہوئے ہیں۔ رائے عامہ بنانے میں کئی معاشی اور سماجی عوامل کار فرما ہوتے ہیں، یہاں صرف ایک کا ذکر کریں گے۔ بیسیوں صدی کی ایک موثر ترین تصویر ’’نیپام گرل‘‘ 8جون 1972ءکو ویت نام کے ایک قصبے میں کھینچی گئی جہاں ایک نیپام بم گرایا گیا تھا۔ ایک نو سالہ سوختہ تن بچی تحفظ کی تلاش میں برہنہ دوڑ رہی ہے۔ اس دل خراش تصویر نے امریکی عوام کا ضمیر جھنجوڑ کے رکھ دیا تھا۔ اتفاق دیکھیے کہ ایران پر حملے کے پہلے ہی روز 150سے زائد معصوم بچیوں کی ہلاکت کی خبر جنگ کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر گئی۔ ’’شرطیہ نیا پرنٹ‘‘ کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ویت نام میں 20 سالہ جنگ اس ملک اور خطے کو کمیونزم سے بچانے کیلئے لڑی گئی تھی، اور امریکا کے جانے کے بعد شمالی اور جنوبی ویت نام ایک کمیونسٹ قیادت کے تحت اکٹھے ہو گئےتھے۔ افغانستان میں بھی جنگ کا علانیہ مقصد طالبان رجیم چینج کرنا تھا۔ بیس سال بعد جب امریکا افغانستان سے نکلا تو طالبان حکم ران تھے۔ ایران میں بھی امریکا رجیم چینج کرنے آیا تھا، اور تین ہفتے بعد ہی اس کا مرکزی ہدف آبنائے ہرمز کھلوانا نظر آ رہا ہے۔
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کبھی دنیا نے بہ یک وقت اتنی جنگیں اور جھڑپیں نہیں دیکھیں۔ اس وقت دنیا میں قریباً 120 جنگیں اور جھڑپیں جاری ہیں جن میں سول وارز اور مسلح بغاوتیں بھی شامل ہیں۔ ان میں لگ بھگ 25 جنگیں ایسی ہیں جو پھیل کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملہ تو سب کو نظر آ رہا، خلیجی ریاستوں میں میزائل گرتے تو ہم سب دیکھ ہی رہے ہیں، اور فلسطینیوں کا قتلِ عام اور لبنان پر حالیہ بم باری تو سامنے کی باتیں ہیں۔ اسی طرح روس اور یوکرین کی جنگ 2022ءسے جاری ہے، پاکستان بھارت جنگ کے بعد، پاک افغان جنگ کا سلسلہ شروع ہے، یمن، شام، سوڈان، میانمار اور افریقا میں ساحل کا خطہ خون میں لتھڑے ہوئے ہیں، ان میں سے اکثر سول وارز کو پراکسی وار بھی کہا جا سکتا ہے جہاں بڑی طاقتیں مخالف فریقین کو اسلحہ اور امداد فراہم کرتی ہیں۔ وینزویلا کے صدر کا اغواء اور کیوبا کا محاصرہ بھی کوئی راز نہیں، اور گرین لینڈ پر حملے کی دھمکیاں ساری دنیا سن چکی ہے۔ یہ ہو کیا رہا ہے؟ملٹی پولر ورلڈ طلوع ہو رہی ہے۔ ہر طرف اس کے آثار ہویدا ہیں۔ وہ سکیورٹی ڈھانچہ جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد تعمیر کیا گیا تھا ہماری نظروں کے سامنے متزلزل ہے، نیٹو کے زیرِ سایہ یورپ کا سکیورٹی نظام زمیں بوس ہو چکا ہے، خلیج کے سکیورٹی سٹرکچر میں دراڑیں صاف نظر آ رہی ہیں، اربوں ڈالر اور امریکی اڈے خطے کو پرامن نہیں رکھ سکے۔ پرامن اور پر سکون ارضی جنتوں پر میزائل گر رہے ہیں، یہ میزائل رک بھی گئے تو اس خطے کے حکمرانوں کی نفسیاتی فضا میں آگ برساتے رہیں گے۔ بلا شبہ، یہ خطہ اپنے دفاعی نظام پر ازسرِ نو غور کرے گا۔ اب دنیا یک قطبی نہیں رہی، چین اور روس بڑی طاقتیں ہیں، خطوں میں بھی اہم طاقتیں ابھر رہی ہیں جن میں ترکیہ، بھارت، اسرائیل، پاکستان اور ایران بھی شامل ہیں۔ یہ سب ممالک بھی نئے ورلڈ آرڈر میں اپنا خطہء رسوخ تلاش کر رہے ہیں۔ سٹیٹس کو کی طاقتیں بھی آسانی سے ہتھیار نہیں ڈالیں گی، لہٰذا، جنگیں تو ہوں گی۔ایران کی سرفروشی داستانی ہے، ایسی مزاحمت کا مسلم و غیر مسلم دنیا میں کوئی تصور ہی نہیں ہے، ایران اپنے سے کئی گنا بڑے حریف سے حیرت انگیز استقامت سے پنجہ آزما ہے۔ دراصل ایران کی جنگ کا مقصد انتہائی واضح ہے، ایران اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، جبکہ اس کے دشمن آئے روز جنگ کا ایک نیا مقصد بتاتے ہیں۔ جنگی تیاری کے اعتبار سے بھی ایران قابلِ رشک ہے، ایران کے زیرِ زمین میزائلوں کے شہر دنیا بھر کے عسکری ماہرین دل چسپی سے دیکھ رہے ہیں۔ نتیجتاً تین ہفتے تک دنیا کے طاقت ور ترین ممالک آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کے ایران پر حملہ کرنے والے روس اور چین سے درخواست کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔ حالانکہ روس اور چین تو پہلے ہی ایک ملٹی پولر دنیا میں ایران کی فوجی اور معاشی مدد کر کے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس جنگ کا اختتام ایک نئے ورلڈ آرڈر کا نقطہء آغاز ہو گا؟
