عدالتوں کا رات کو کھلنا عوام پر اعتماد بنانے کی کوشش تھی

عدالتوں کے رات کو کھلنے پر مسلسل تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالتوں کا رات کو کھلنا عوام پر اعتماد بنانے کی کوشش تھی، اگر معاملہ آئین یا پسے ہوئے طبقے کا ہو تو عدالتیں رات کو 3 بجے بھی کھلیں گی۔

ارشد شریف کو ہراساں کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت ہر کسی کے لیے یہاں موجود ہے، آپ نے کاشف عباسی کا پروگرام دیکھا ہے؟ پروگرام میں حقائق کی تصدیق کے بغیر کیا کچھ کہا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمار کس دیئے کہ ایک بیانیہ بنا دیا گیا کہ عدالتیں کھلیں، عدالتیں کھلیں گی اور کسی کو آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گی، آپ لوگوں کا عدالتوں پر اعتماد ختم کر رہے ہیں، اس عدالت کو بھی کہا گیا کہ چیف جسٹس عدالت پہنچ گئے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ عدالت نے ایک نہیں، عدالتی اوقات کار کے بعد بہت سی درخواستیں سنیں، کوئی ذمہ داری بھی ہوتی ہے، آپ کو تو خوش ہونا چاہئے کہ آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جا رہی، سپریم کورٹ نے واضح پیغام دیا کہ آئین کےخلاف کسی اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وفاقی شرعی عدالت کا 5 سال میں سود سے پاک نظام نافذ کرنے کا حکم

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیاسی بیانیے کیلئے اداروں کوتباہ کررہے ہیں اور ایسا پہلی بار نہیں ہورہا، بنیادی حقوق کے لیے عدالت کھلیں گی، ان بیانیوں سے کچھ نہیں ہوگا، عدالت عظمیٰ کے اعلیٰ ججز سے متعلق باتیں ہوتی ہیں کہ وہ جواب نہیں دے سکتے؟ جہاں پر ہم سے غلطی ہوتی ہے ضرور بتائیں۔

Back to top button