آپریشن "مہادیو” کے نام نہاد دعوے پاکستان کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتے: دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے کیے گئے آپریشن "مہادیو” کے نام نہاد دعوے پاکستان کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتے، اور ان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔
دفتر خارجہ نے بھارتی پارلیمنٹ میں آپریشن "سندور” پر ہونے والی بحث اور اس حوالے سے بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان بے بنیاد الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق، بھارت نے بغیر کسی تحقیق یا ثبوت کے پاکستان پر حملہ کیا، جو 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پیش آیا۔ اس حملے کے نتیجے میں پاکستان کے معصوم شہری، بشمول بچے، خواتین اور مرد شہید ہوئے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف بھارتی لڑاکا طیاروں کو مؤثر جواب دیا بلکہ ان کے فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنا کر واضح پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ پاکستان نے دفاع میں شاندار کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے بھارتی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی مسلح افواج کے نقصانات کو تسلیم کریں اور بھارتی عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے حقیقت پسندی اپنائیں۔ ساتھ ہی زور دیا کہ بھارت خطے میں قیام امن کے لیے جنگ بندی میں تیسرے فریق کے کردار کو تسلیم کرے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے نشاندہی کی کہ وزیراعظم پاکستان نے پہلگام حملے کی تحقیقات کی پیشکش کی تھی، جسے بھارت نے نظر انداز کیا اور خود ہی الزام لگا کر جج، جیوری اور جلاد کا کردار ادا کیا۔
انہوں نے بھارتی وزیر داخلہ کے بیان کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ لوک سبھا میں بحث کے آغاز سے عین قبل پہلگام حملے کے مبینہ ملزم مارے گئے؟
دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان مستقبل میں بھی کسی ممکنہ بھارتی جارحیت کا مؤثر اور منہ توڑ جواب دے گا۔
ترجمان نے اس موقع پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ دورۂ امریکا کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے 20 سے 28 جولائی کے دوران اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی، جہاں پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ ان کا واشنگٹن میں دیگر مصروفیات کا شیڈول بھی رہا، جن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات شامل تھی، جس میں عالمی و علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
