اپوزیشن اتحاد کاپارلیمنٹ ہاؤس کےباہردھرناجاری رکھنےکااعلان

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نام سے قائم اپوزیشن اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جاری دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔
اپوزیشن اتحاد کے اجلاس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سابق اسپیکر اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت جاری ہے، تاہم فی الحال مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیاکہ بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ذاتی معالج کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جبکہ پارٹی رہنماؤں اور اہل خانہ کی ملاقات بھی یقینی بنائی جائے۔
اجلاس کے بعد پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر دوبارہ دھرنا دیا گیا اور پارلیمنٹیرنز نے نعرے بازی کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے قبل ہونے والے مشاورتی اجلاس میں سوشل میڈیا پر چلنے والی مبینہ پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
بعض اراکین نے اس بات پر وضاحت طلب کی کہ پارٹی معاملات کی قیادت علیمہ خان اور فیملی کرے گی یا سیاسی کمیٹی۔
صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر، شہریار آفریدی اور دیگر اراکین کا کہنا تھا کہ 3 روز سے دھرنا جاری ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر انہی کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کی آنکھ کا علاج کرانے کے ساتھ ساتھ ان تک رسائی بھی دی جائے۔
