اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نےنئےانتخابات کامطالبہ کردیا

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ملک میں نئے صاف و شفاف انتخابات کا مطالبہ کردیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے منعقدہ دو روزہ قومی مشاورتی کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ جمہوریت کی عمارت شفاف انتخابات پر کھڑی ہے، انتقال اقتدار میں عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے تحریک تحفظ آئین پاکستان نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری اور نئے صاف شفاف انتخابات انعقاد کروانے کا مطالبہ کرتی ہے۔
اپوزیشن اتحاد نے کہا ہے کہ قومی کانفرنس کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ فروری 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کروائی جائیں اور عدلیہ پر حملوں، 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ کانفرنس جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس منصور علی شاہ سمیت تمام ججوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان، ان کی اہلیہ، ان کے بہنوں اور سیاسی عمائدین کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک کی شدید مذمت کرتی ہے۔
قومی کانفرنس کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی، ان کی اہلیہ اور ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی یقینی بنائی جائے، عمران خان اور ان کی اہلیہ سے ملاقاتوں پر لگی پابندی فوراً ختم کی جائے۔
اپوزیشن اتحاد نے پیکا کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے، اس سے ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ڈان نیوز، مطیع اللہ، ایمان مزاری، ہادی چھٹا سمیت دیگر کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے، میڈیا کا گلا گھونٹا جارہا ہے، مقدمات بنائے جا رہے ہیں، جس کی مذمت کرتے ہیں اور ان جھوٹے مقدمات کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
