اپوزیشن اور حکومت جلسے منسوخ کریں

حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے جلسے اور احتجاج ختم کرنے کی اپیل کر دی، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی حتمی تاریخ تو تاحال سامنے نہیں آئی تاہم دونوں کیمپوں میں تیاریاں اور تند و تیز بیان بازی کا سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔
منگل کو ایک بیان میں چوہدری شجاعت نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ نامساعد معاشی اور سیاسی حالات اس خطرناک محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہو سکتے اور فریقین اپنے اپنے کارکنان کو اشتعال انگیز سیاست کا راستہ مت دکھائیں، غربت اور مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام حکومت اور اپوزیشن کے جلسوں اور نمبروں کی سیاست سے سخت پریشان ہیں۔
چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ اپوزیشن تو جلسوں کی سیاست کرتی ہی ہے مگر اس وقت حکومت بھی اس کے مقابلے میں جلسے کرنے لگ گئی ہے جو حکومت کا کام نہیں ہے اور یہ سیاسی مسابقت ملک میں ایسی سیاسی افراتفری اور بحران پیدا کر سکتی ہے۔
چوہدری شجاعت نے حکومت اور اپوزیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ ہار اور جیت کو انا کا مسئلہ بنائے بغیر جمہوری طریقے کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ میں حصہ لیں، مسلم لیگ ق کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی جماعت کو چھوٹی پارٹی کہنے والے بھول گئے ہیں کہ ملک اور جمہوریت کی خاطر بڑے فیصلے کیے ہیں، خیال رہے کہ رواں ہفتے ہی وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے مسلم لیگ ق کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ پانچ نشستیں رکھنے والی جماعتیں بھی بلیک میلنگ پر اتر آئی ہیں۔
محسن بیگ کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور
چودھری شجاعت کے بیان کے جواب میں وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت شدت پسندی کی سیاست نہیں کرتی اور اسلام آباد میں تحریکِ انصاف کے جلسے کا مقصد تصادم نہیں ہے، ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا کہ چوہدری شجاعت صاحب رائے شخصیت ہیں اور وزیر اعظم نے انھیں ہمیشہ عزت دی ہے، تحریک انصاف ایک جمہوری پارٹی ہے، ہم شدت پسندی کی سیاست نہیں کرتے نہ ہی تصادم پر یقین رکھتے ہیں، ہماری سیاست کی بنیاد جمہوریت ہے اور عوام کی رائے ہمارے لیے مقدم ہے۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن پرامن جلسہ کرنا چاہتی ہے تو اس جلسے کو بھی خوش آمدید کہتے ہیں اور ہر طرح کی سہولت دیں گے، جمہوریت میں عوام کی رائے اصل فیصلہ ہے اور جلسے اس رائے کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
