اپوزیشن پنجاب حکومت کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد لے آئی

وزیراعظم عمران خان کے بعد اپوزیشن نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی ہے، اپوزیشن اراکین کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک سیکریٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کو جمع کرائی گئی۔
تحریک عدم اعتماد اور اجلاس کی ریکوزیشن اپوزیشن اراکین اسمبلی رانا مشہود احمد خان، ملک ندیم کامران، سمیع اللہ خان، میاں نصیر، رمضان صدیق بھٹی کے علاوہ سید حسن مرتضیٰ و دیگر اراکین اسمبلی نے جمع کروائیں، عدم اعتماد کی تحریک 127 اراکین کے دستخطوں سے جمع کروائی گئی ہے، سیکریٹری پنجاب محمد خان بھٹی نے تصدیق کی کہ اسمبلی اجلاس کی ریکوزیشن مل گئی۔
a8da76a8 0c8e 433c 8f3e 19d03a0e507a
محمد خان بھٹی کے مطابق تحریک عدم اعتماد اور اسمبلی اجلاس کی ریکوزیشن سپیکر پنجاب اسمبلی کو پیش کی جائے گی جس پرآئین کے مطابق کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر اس ایوان کی اکثریت کا اعتماد نہیں رہا ہے، قرار داد کے مطابق وزیراعلیٰ نے پنجاب میں جمہوری روایات کا قلع قمع کیا لہٰذا یہ ایوان ان پر عدم اعتماد کرتا ہے۔
وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار تحریک عدم اعتماد کے بعد اب صوبائی اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے ہیں اور سپیکر 14 روز کے اندر اجلاس بلانے کا پابند ہوگا۔تحریک عدم اعتماد ایوان کے لیے آئین کی دفعہ 154 (3) اور 127 کے تحت اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی بھی ریکوزیشن جمع کرائی گئی ہے۔
لیگی رہنما رانا مشہود نے اس حواے سے بتایا کہ تحریک عدم اعتماد پر ن لیگ کے 122 اراکین اسمبلی اور پیپلزپارٹی کے 6 اراکین اسمبلی کے دستخط ہیں، آئین کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک پر 74 ایم پی ایز کے دستخط ضروری ہیں، تحریک عدم اعتماد پر 100 مسلم لیگ (ن) اور 6 پیپلز پارٹی کے اراکین نے دستخط کیے ہیں۔
تحریک عدم اعتماد ایسے وقت جمع کرائی گئی جب آج ہی قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے کا امکان ہے، واضح رہے کہ اپوزیشن اراکین کی جانب سے عمران خان کے خلاف 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد اور قومی اسمبلی اجلاس کی ریکوزیشن جمع کرائی گئی تھی۔

Back to top button