اپوزیشن PMLQ اور MQM کے بغیر بھی کامیاب ہو جائے گی

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی کھیل کے ماسٹر مائنڈ نواز شریف ہیں جنکی زیر قیادت مسلم لیگ (ن) نے پیپلزپارٹی کی مدد سے مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ کے بغیر ہی عمران مخالف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے مطلوبہ نمبرز گیم پوری کر لی ہے۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے پیپلزپارٹی بھی مسلم لیگ (ن) کا بھر پور ساتھ دے رہی ہے تاہم پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ تبدیلی کے عمل میں مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کو بھی اپوزیشن اپنے ساتھ لے کر چلے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) ابتدا میں سمجھتی تھی کہ مسلم لیگ (ق) اُن کا ساتھ نہیں دے گی، لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت نے (ن) لیگ کو قائل کیا کہ چوہدری برادران کو بھی ساتھ لے کر چلیں تاکہ تبدیلی کا آغاز پنجاب سے کیا جا سکے۔ حامد میر کے بقول پیپلزپارتی چاہتی ہے کہ مرکز کے ساتھ پنجاب میں بھی تحریک انصاف حکومت کی چھٹی کروائی جائے جس کے لیے جوڑ توڑ کا ٹاسک آصف زرداری کو دیا گیا ہے۔
جب حامد میر کو پوچھا گیا کہ کیا اپوزیشن کو اپنی عمران مخالف تحریک عدم اعتماد میں مقتدر حلقوں کی حمایت بھی حاصل ہے تو انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی تحاریک اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر پیش ہوتی تھیں، لیکن فی الحال ایسا نہیں لگ رہا کہ اسٹیبلشمنٹ اس کارروائی کے پیچھے ہے۔ اُن کے مطابق حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے قائدین پہلے لاہور میں اپنا ہوم ورک مکمل کریں گے۔ سیاسی چال کے تمام خدو خال مکمل کرنے کے بعد پھر اسلام آباد کا رخ کیا جائے گا۔ اُن کے بقول جتنے دِن لاہور میں لگتے جا رہے ہیں اِس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایکشن پلان ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان بلاشبہ اپوزیشن جماعتوں کی ان سرگرمیوں سے پریشان ہیں، اسی لیے آئے روز ترجمانوں کے اجلاس بلائے جا رہے ہیں اور چھٹی کے روز پیکا جیسے متنازع آرڈیننس جاری کیے جا رہے ہیں۔ تاہم تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات کافی روشن ہیں۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ایک بات واضح ہے کہ اپوزیشن بھی اسی شاخ پر جا بیٹھی ہے جس پر اسٹیبلشمنٹ بیٹھی ہوئی ہے اور وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کافی سنجیدہ موو لگتی یے۔ انکا کہنا ہے کہ عمران کو اقتدار سے نکالنے میں حکومتی اتحادیوں کا کردار اہم ترئن ہو گا۔
دیکھنا یہ ہے کہ حزبِِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں اتحادیوں کو توڑ پاتی ہیں یا نہیں۔ اُن کے بقول جب تک اپوزیشن جماعتوں کی نمبر گیم پوری نہیں ہو گی، اس وقت تک تحریکِ عدم اعتماد نہیں آئے گی۔ انکا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کے ناراض اراکین جہانگیر ترین کی قیادت میں سرگرم ہیں، لہذٰا حکومت کو اپوزیشن کے مقابلے کے ساتھ ساتھ اپنی صفوں میں بھی اتحاد پیدا کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔
تحریک انصاف آج پی پی کیخلاف کراچی مارچ کریگی
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بظایر حکایتیں کی تازہ موو کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ نہیں ہے لیکن یہ بھی طے ہے کہ عمران خان کے سر سے ہاتھ سب اُٹھ گیا ہے اور اسی لیے یہ تاثر تقویت پکڑتا جا رہا ہے کہ عمران خان کو لانے والے شاید اب اس طرح سے اُن کے ساتھ نہیں جیسے کہ ماضی میں رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور آرمی چیف کے مابین خرابی کا آغاز ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر شروع ہوا جسکے بعد پیدا ہونے والی خلیج گھٹنے کی بجائے بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے، لہذٰا اب وزیراعظم عمران خان کو تنِ تنہا اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد سے نمٹنا ہو گا۔
دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے خاتمے کے لیے مطلوبہ نمبرز گیم پوری کرنے کے دعوؤں کے باوجود حکومت پراُمید ہے کہ اپوزیشن کی یہ مہم رائیگاں جائے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپوزیشن کو 24 گھنٹوں میں تحریکِ عدم اعتماد لانے کا چیلنج دیا ہے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ لیکن اس دوران کپتان کی ایک اہم ترین اتحادی جماعت قسف لیگ واضح طور پر اپوزیشن کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھاتی نظر آتی ہے اور اب تو چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعلی پنجاب بنانے کے معاملات پر بھی کافی پیش رفت ہوگئی لگتی ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری سمجھتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ تو بدلا ہے جس کی وجہ سے سیاسی ہلچل شروع ہوئی ہے اور لاہور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بخاری کہ کہنا تھا کہ جس رفتار سے حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے لوگ آپس میں مل رہے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو ضرور ہو گا۔
اُن کے بقول ایسا لگتا ہے کہ عدمِ اعتماد اب مہینوں کی نہیں بس دنوں کی بات ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی سمجھتے ہیں کہ سیاسی ملاقاتوں اور رابطوں میں تیزی اِس لیے آئی ہے کیوں کہ ملک کے معاشی حالات دگرگوں ہیں اور ایسے میں حزبِ اختلاف پر مزید سختیاں کی جا رہی ہیں، مقدمات درج ہو رہے ہیں اور جیلوں میں ڈالنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
شامی نے کہا کہ برسرِ اقتدار جماعت کے اندر بھی ایک بے چینی ہے۔ یہ سارے عوامل مل کر حزبِ اختلاف کی تحریک کو تیز کیے ہوئے ہیں۔ انکا کہنا یے کہ کہ اپوزیشن جماعتوں کے کئی معاملات پر اختلافات ہیں، ان کے منشور بھی الگ الگ ہیں ، لیکن فی الحال ان سب کا ہدف وزیرِاعظم عمران خان ہیں۔
