عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیل عام کرنے کا حکم

عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کو عالمی رہنمائوں سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات عام کرنے کا حکم دیا گیا ہے، سابق حکومت کی جانب سے توشہ خانہ تحائف کی تفصیلات پبلک کرنے کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے وفاق کو دو ہفتوں میں جواب جمع کرانے کے لیے وقت دے دیا گیا ہے، عدالت کی جانب سے درخواست گزار کو معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی اور ریمارکس دیئے کہ اس پر حکم امتناعی نہیں تو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن معلومات فراہم کرے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ پالیسی ہونی ہی نہیں چائیے تھی کہ کچھ فیصد رقم دیکر تحفہ گھر لے جائیں، ایسی پالیسی بنانے کا مطلب تو یہ ہوا کہ تحفوں کی سیل لگا رکھی ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دئیے کہ حکومت پاکستان کو جو تحفہ دیا گیا ہو وہ اس آفس کوجاتا ہے۔یہ تحائف گھرلے جانے کے لئے نہیں ہیں۔ بیرون ملک سے ملے تحائف کوئی گھر لے گیا ہے تو واپس لیں، لوگ آتے اور چلے جاتے ہیں وزیراعظم آفس وہیں رہتا ہے۔عدالت نے کہا کہ گوگل پرجائیں جو تحائف پاکستان نے دئیے وہ آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں بیرون ملک کہاں کہاں رکھے ہیں۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ 27 جنوری 2021 کے حکم پر عمل کرے ۔
عمران توشہ خانہ کے سستے تحائف مہنگے داموں بیچتے رہے
وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے نئی حکومت آنے کے بعد جواب کے لئے وقت مانگ لیا۔ وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی عدالت میں پیش ہوئے اورہدایت لینے کے لئے مہلت کی استدعا کی، درخواست گزارکے وکیل رانا عابد نذیر نے موقف اختیارکیا کہ تحائف کی معلومات شئیرکرنے سے دیگرممالک سے تعلقات متاثرہوں گے۔تحائف کی فروخت کا معاملہ سامنے آیا ہے توکیا عزت رہ جائے گی، عدالت نے وفاق کو 2 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
