جوڈیشل انکوائری تک شیریں مزاری کو رہا کرنے کا حکم

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے جوڈیشل انکوائری تک تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد کی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری سےمتعلق درخواست پرسماعت کی ۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد، ایڈووکیٹ جنرل اورڈی سی اسلام آباد بھی موجود تھے۔اس کے علاوہ پی ٹی آئی رہنما سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، فرخ حبیب، قاسم سوری اور زلفی بخاری بھی عدالت عالیہ پہنچے جبکہ کمرہ عدالت پی ٹی آئی رہنماوں اور کارکنوں سے بھر گیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کسی حکومت نےجبری گمشدگیوں پرایکشن نہیں لیا، جب آئین کااحترام نہیں ہوتا توایسےواقعات رونما ہوں گے، ہرحکومت کاآئینی خلاف ورزیوں پرافسوسناک رویہ ہوتاتھا، شیریں مزاری کو غیر قانونی طور پر رہا کیا گیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا شیریں مزاری آپ کے ساتھ جو ہوا وہ افسوسناک ہے، جب آپ حکومت میں تھیں تو اس سے زیادہ برے واقعات ہوئے، اسلام آباد سے جبری گمشدگیاں ہوئیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کوجوڈیشل کمیشن تشکیل دے کررپورٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئےکیس کی سماعت بدھ 25 مئی تک ملتوی کر دی۔ اورآئی جی اسلام آباد کو شیریں مزاری کو گھر تک چھوڑ کر آنے کی ہدایت بھی کی.

عمران خان کا ‘بندہ ایماندار ہے’ کا بت کیسے پاش پاش ہوا؟

تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں ان کی بیٹی ایمان مزاری کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ میری والدہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انسانی حقوق خلاف ورزیوں کی ناقد ہیں، دن کے اجالے میں والدہ کو اٹھایا گیا اور فیملی ممبرز کو اس متعلق کوئی معلومات بھی فراہم نہیں کی جارہیں، پٹیشنرکی والدہ کووفاقی دارالحکومت سےاٹھایا گیا اور قانونی تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے۔

درخواست پرعدالت عالیہ نے حکم دیا تھاکہ سیکرٹری داخلہ یقینی بنائیں کہ شیریں مزاری کو آج رات ساڑھے 11 بجے پیش کیا جائے۔ حکم نامے میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونےکا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ پیش ہو کر بتائیں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کیوں کی گئی؟اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹس جاری کیے گئے تھے ۔

واضح رہے کہ اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے سابق وفاقی وزیر شیرین مزاری کو اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود سے گرفتار کیا تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے ان کی رہائی کا حکم دیا ہے۔

Back to top button