اسلامی تعاون تنظیم نےعربوں کے غزہ منصوبے کی حمایت کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’غزہ منصوبے‘ کے خلاف عربوں کے منصوبے کی حمایت میں مزید اضافہ ہوگیا، اسلامی ممالک اور یورپی حکومتوں نے بھی عرب منصوبے کی حمایت کر دی۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے منصوبے کے برعکس، عرب تجویز کا مقصد غزہ کے 24 لاکھ باشندوں کو بے گھر کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو کرنا ہے،غزہ کے باشندوں نے 19 جنوری کو نازک جنگ بندی کے نفاذ سے پہلے 15 ماہ سے زیادہ عرصے تک تباہ کن تنازع کا سامنا کیا تھا۔

او آئی سی نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہنگامی اجلاس میں تجویز کو باضابطہ طور پر منظور کیا، اس سے 3 دن قبل عرب لیگ نے قاہرہ میں ہونے والے ایک اجلاس میں اس کی توثیق کی تھی۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نےوزرائے خارجہ کےمشترکہ بیان میں اس کی حمایت کرتے ہوئے اسے جنگ زدہ غزہ کی تعمیر نو کیلئےحقیقت پسندانہ راستہ‘ قرار دیا۔

غزہ کی جلد بحالی اور تعمیر نو کے بارےمیں اسلامی بلاک کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ او آئی سی عرب منصوبے کو منظور کرتا ہے، بین الاقوامی برادری، عالمی اور علاقائی فنڈنگ کے ادارے فوری طور پر ضروری مدد فراہم کریں۔

ٹرمپ نےعالمی سطح پر برہمی کا اظہار کیا تھا، جب انہوں نے تجویز دی تھی کہ امریکا غزہ پر قبضہ کرے اور اسے ’مشرق وسطیٰ کے ریویرا‘ میں تبدیل کر دے گا، جب کہ اس کے فلسطینی باشندوں کو مصر یا اردن منتقل کرنے پر مجبور کرے گا۔

پاکستان نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ واضح کریں کہ فلسطینی عوام کو جبری طور پر منتقل کرنے کی کوئی بھی کوشش، چاہے وہ غزہ سے ہو یا مغربی کنارے سے، نسلی صفائی اور بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم ہے۔

او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ اسلامی بلاک کو ایسی کسی بھی تجویز کو واضح طور پر مسترد کرنا چاہیے، جس میں فلسطینیوں کو ان کے اپنے ملک سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی بیرونی طاقت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ فلسطینیوں پر اپنا مستقبل ڈکٹیٹ کرے، انہیں خود ارادیت کی مشق کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین خود کرنا ہوگا، او آئی سی کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کے کسی بھی مذموم ایجنڈے کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔

اسحٰق ڈار نے پاکستان کی فوری سفارشات پیش کیں، جن میں جنگ بندی معاہدے کے 3 مراحل پر مکمل اور فوری عمل درآمد شامل ہے، جس میں جنگ بندی کا مستقل خاتمہ، غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، بلا روک ٹوک انسانی رسائی اور تعمیر نو کا جامع منصوبہ شامل ہے۔

Back to top button