امریکن اوورسیز پی ٹی آئی کی اسٹیبلشمنٹ سے انگیجمنٹ کی کوشش

پاکستان تحریک انصاف کےچیئرمین عمران خان کی رہائی کےلیےامریکا میں پی ٹی آئی سےوابستہ افراد اپنی ذاتی حیثیت میں اس بات پر قائل ہیں کہ انگیجمنٹ کےسواکوئی راستہ نہیں، معاملہ بلآخر مذاکرات کی میز پرہی حل ہوگا۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے عالمی امور عاطف خان نے اس نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘پارٹی میں شامل بعض ایسےلیڈرجو انگیجمنٹ کے مخالف ہیں وہ نہیں چاہتےکہ خان رہا ہو۔ انہیں اپنی سیاسی دکان بند ہونے اور سوشل میڈیا پر ویوز ختم ہونےکا ڈر ہے۔یہی وجہ ہےکہ وہ اپنی شعلہ بیانی سے درجہ حرارت کم ہونے نہیں دے رہے۔’
عاطف خان نے کہا کہ وہ خود پاکستان آکرانگیجمنٹ بڑھانے کے لیے تیار ہیں اوربتایا کہ انہوں نےحال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنیوالے ڈاکٹر منیر، ڈاکٹر سائرہ بلال اور عثمان ملک کی حوصلہ افزائی کی تھی کہ وہ برف پگھلانےکےلیے کردار ادا کریں۔
عاطف خان پی ٹی آئی کے وہ ینگ لیڈر ہیں جنہوں نے بچپن میں شوکت خانم اسپتال کیلیے کام کیا۔18برس کی عمر میں مانسہرہ میں عمران خان، عارف علوی اور دیگر کی اپنےگھر میں میزبانی کی اورمسلم لیگ سے دیرینہ وابستہ اپنے گھرانےکو پی ٹی آئی میں شامل کرایا۔
عاطف خان نےکہا کہ پی ٹی آئی کی آرگنائزیشن آف انٹرنیشنل چیپٹرز کےسیکرٹری سجاد برکی نےانہیں ابتدا میں خبردار کیا تھا کہ ڈاکٹروں کا وفد پاکستان بھیجنا مناسب نہیں اور یہ بڑی زمہ داری ہوگی تاہم ڈاکٹروں کےواپس آنے کے بعد سجاد برکی بھی اس بات کےقائل ہیں کہ یہ درست اقدام تھا اور بحثیت دوست وہ اس معاملے پرساتھ کھڑے ہیں۔ اس نمایندے نےسجاد برکی سےاس کی تصدیق چاہی تورابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔
پی ٹی آئی امریکا سےتعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کے وفد کو پاکستان بھیجنے میں اہم کردار ادا کرنیوالے امریکن پاکستانی کاروباری شخصیت تنویراحمد نے اس نمایندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام صلح اور نیکی کا درس دیتا ہے اور ان کا یہ اقدام نیک نیتی پرمبنی تھا۔ بتایاکہ وفد میں شریک ہر شخص کی یہ اپنے طور پر بھی خواہش تھی کہ معاملات بہتری کی جانب بڑھیں۔
پی ٹی آئی امریکا ذرائع کےمطابق پاکستان جانیوالے ڈاکٹروں کو خود پی ٹی آئی ہی کے ایک اہم لیڈر نے بھی روکنے کی کوشش کی تھی اور خدیجہ شاہ کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ وہ ون وے ٹکٹ کٹوا رہے ہیں۔ وفد اس شخص کی بات خاطرمیں تو نہیں لایا مگر ان میں سے بعض کے چہروں پر پریشانی کے آثار اس وقت تک قائم رہے جب تک کہ وہ پاکستان سے امریکا واپسی کی کنیکٹنگ پرواز سے دوحہ اُتر نہیں گئے تھے۔
عدالتی فیصلے کے بعد ہمیں کسی کوروکنے کی ضرورت نہیں ، عمران خان خود نہیں ملنا چاہتے ، طلال چوہدری
تنویر احمد نےکہا کہ اصل معاملہ پی ٹی آئی کے نام نہاد حامی سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے بگاڑا۔انہیں یقین ہوگیا تھا کہ وفد کی ملاقاتیں نتیجہ خیز ہوئیں تو انکےتجزیوں اور تبصروں سےمرچ مصالحہ غائب ہوجائےگا اور وہ ہزاروں ڈالرز روزانہ چھاپنے سے محروم ہوجائیں گے۔
تنویر احمد نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام ہو،عمران خان کو ضمانت پر رہائی مل جائے تو سب سے بڑا نقصان انہی یوٹیوبرز کا ہوگا اور یہ اس کےلیےپاکستان کی ساکھ داو پر لگائے ہوئے ہیں۔انہوں نےکہا کہ یہ خطرناک رجحان ہے کہ چیزیں درست سمت میں جارہی ہوں اورسوشل میڈیا کے زریعے اثر ڈال کررُخ موڑ دیا جائے۔
سوشل میڈیا پر بے پر کی منگل کو اس وقت بھی اڑائی گئی جب بانی پی ٹی آئی کی تین بہنوں علیمہ خان، عظمی خان اور نورین خان کوحراست میں لے کر شادی ہال منتقل کیا گیا تھا۔ ویوز کی دوڑ میں سنسنی خیزی پھیلائی گئی کہ تینوں بہنیں گرفتارکرلی گئی ہیں۔
پی ٹی آئی کے ایک ڈونر نے دعویٰ کیا کہ کپتان جب تک جیل میں ہے،بعض پارٹی رہنماوں کی آمدنی کا اہم ذریعہ چندہ ہے جو وہ مختلف مد میں جمع کررہے ہیں۔ساتھ ہی دعوی کیا کہ پارٹی کے ڈی چوک پر جلسے میں لوگوں کو لانے لیجانے اور دیگر انتظامات کے نام پر امریکا میں پی ٹی آئی کے ایک لیڈر نے تین لاکھ ڈالر جمع کیے تھے جو وزیراعلی گنڈا پور کو دیے جانے تھے تاہم وہ گنڈاپور تک نہیں پہنچے۔رقم کہاں گئی،کچھ پتہ نہ چلا۔
اسی ڈونر کا کہنا تھاکہ امریکا کے صدارتی اور کانگریشنل الیکشن کےدوران بھی چندے کی یہ مہم جاری تھی جس میں مختلف امیدواروں کی میزبانی کے نام پر رقم جمع کرکے جیبیں گرم کی گئیں۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہری جھنڈی دکھائے جانے پراب یہ افراد بغلیں جھانکتے نظرآتے ہیں۔
امریکا میں پی ٹی آئی کے ایک رہنما کے بقول ذاتی مفاد کی چھری پارٹی مفاد کے گلے پر پھیری جارہی ہے جس سے پی ٹی آئی کے اوورسیز حامی بد دل ہورہےہیں۔
ممکن ہے اسی صورتحال کے سبب شاہ محمود قریشی نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے منگل کو اپیل کی ہے کہ اتفاق رکھیے اور جیل والوں کیلیے کچھ کریں۔
