لاہور قلندر کی ملکیت پر رانا برادران کا تنازعہ الجھ کیوں گیا؟

 

 

 

پاکستان سپر لیگ کی مقبول ترین فرنچائز لاہور قلندرز کی ملکیت کا تنازعہ ثالثی ٹربیونل کی جانب سے رانا فواد کے حق میں فیصلہ آنے کے باوجود اور بھی ذیادہ الجھ گیا ہے چونکہ رانا عاطف اور رانا ثمین نے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

یاد رہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ کے جسٹس ریٹائیرڈ مقبول باقر کی سربراہی میں قائم خصوصی ثالثی ٹربیونل نے لاہور قلندرز کے اصل مالک رانا فواد کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ٹیم کی ملکیت انہیں واپس کرنے یا دو ارب 30 کروڑ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ انکے اس فیصلے کے بعد لاہور قلندرز کے موجودہ مالکان اور رانا فواد کے دو چھوٹے بھائیوں رانا عاطف اور رانا ثمین نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، چنانچہ یہ تنازعہ ایک بار پھر طویل قانونی جنگ کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

 

خیال رہے کہ لاہور قلندرز کی بنیاد 2015 میں تب رکھی گئی جب قطر میں رجسٹرڈ کمپنی قطر آئل گروپ نے 26 ملین ڈالرز کے عوض فرنچائز کے مالکانہ حقوق حاصل کیے۔قطر آئل گروپ کے مینجنگ ڈائریکٹر رانا فواد تھے اور عملی طور پر ٹیم کا مکمل انتظامی اور مالی کنٹرول انہی کے پاس تھا۔ پاکستان سپر لیگ کے ابتدائی سیزنز میں باؤنڈری لائن کے باہر موجود رانا فواد اپنی جذباتی وابستگی، جیت پر خوشی اور شکست پر مایوسی کے باعث نہ صرف لاہور قلندرز بلکہ پوری لیگ کی پہچان بن گئے تھے۔ ٹیم کی مسلسل ناکامیوں کے باوجود شائقین کرکٹ ان سے ہمدردی رکھتے تھے اور سوشل میڈیا پر ان سے جڑی میمز عام تھیں۔

 

سال 2016 میں رانا فواد نے فرنچائز کے انتظامی معاملات میں اپنے چھوٹے بھائیوں رانا عاطف اور رانا ثمین کو شامل کیا۔ ابتدا میں یہ شمولیت سہولت اور ذمہ داریوں کی تقسیم کے لیے کی گئی، تاہم اسی مرحلے پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ فرنچائز کو قطر کے بجائے پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنی کے ذریعے چلایا جائے۔ اس مقصد کے لیے لاہور میں رانا برادران کی والدہ کے نام سے منسوب کمپنی کوثر رانا ریسورس قائم کی گئی، جسے 48 فیصد شیئرز دیے گئے جبکہ اصل سرمایہ کار کمپنی کیلکو کے 51 فیصد شیئرز بدستور رانا فواد کے پاس رہے۔ قانونی طور پر لاہور قلندر کی اکثریتی ملکیت رانا فواد کے پاس تھی، تاہم انتظامی کنٹرول بتدریج عاطف اور ثمین رانا کے ہاتھ میں چلا گیا۔

 

عدالتی ریکارڈ کے مطابق کہانی میں فیصلہ کن موڑ 2018 میں آیا، جب قطر آئل گروپ کے چار فیصد شیئرز خاموشی سے کوثر رانا ریسورس نامی کمپنی کو منتقل کر دیے گئے۔ اس منتقلی کے نتیجے میں اکثریتی ملکیت رانا فواد کے ہاتھ سے نکل کر رانا عاطف کے پاس چلی گئی۔ رانا فواد کا موقف ہے کہ یہ منتقلی نہ تو ان کی اجازت سے ہوئی، نہ ہی کسی بورڈ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا اور نہ ہی کسی قانونی دستاویز پر انکے دستخط موجود ہیں۔ ان کے مطابق یہی وہ مرحلہ تھا جب انہیں بتدریج لاہور قلندرز کے انتظامی فیصلوں سے الگ کیا گیا اور فرنچائز پر عملی طور پر قبضہ کر لیا گیا۔

 

دوسری جانب رانا عاطف اور رانا ثمین کا کہنا ہے کہ اس وقت لاہور قلندرز مسلسل ناکامیوں کے باعث مالی اور ساکھ کے بحران کا شکار تھی اور فرنچائز کو نئی سمت دینے کے لیے غیر معمولی فیصلے ضروری تھے۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات اور قطر کے درمیان سفارتی کشیدگی کے باعث قطر میں رجسٹرڈ کمپنی کے ذریعے ابو ظہبی ٹی ٹین لیگ میں شمولیت ممکن نہیں تھی، جسکے لیے اکثریتی شیئرز کا پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنی کے پاس ہونا لازمی تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ رانا فواد نے اصولی طور پر اس فیصلے سے اتفاق کیا تھا، تاہم رانا فواد اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے نہ تو اس حوالے سے کسی میٹنگ میں شرکت کی اور نہ ہی کسی قسم کی تحریری اجازت دی۔

تنازعہ اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب 2020 میں کرونا وبا کے باعث پاکستان سپر لیگ ملتوی ہو گئی اور لاہور قلندرز کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

 

عدالتی دستاویزات کے مطابق اس دوران لاہور قلندر کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ادا کی جانے والی سکیورٹی فیس کا چیک باؤنس ہوا، جس پر بورڈ نے قانونی کارروائی کی وارننگ جاری کی۔ اسی دوران رانا عاطف اور ثمین رانا نے رانا فواد کو لاہور قلندر فروخت کرنے کی تجویز دی اور دعویٰ کیا کہ 30 لاکھ ڈالرز کا خریدار موجود ہے، تاہم اس کے لیے بھی شرط رکھی گئی کہ تمام شیئرز کوثر رانا ریسورس کے پاس ہوں۔ رانا فواد کے مطابق یہی وہ مرحلہ تھا جب انہیں مکمل طور پر دیوار سے لگا دیا گیا اور فرنچائز کے تمام بڑے فیصلے ان کی شمولیت کے بغیر کیے جانے لگے۔

 

رانا فواد کے مطابق جب انہوں نے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے کمپنی کا ریکارڈ حاصل کیا تو پتہ چلا کہ ان کی کمپنی قطر آئل گروپ کا نام بطور لاہور قلندر کے شیئر ہولڈر کے موجود نہیں تھا، چنانچہ انہوں نے 2023 میں عدالت سے رجوع کیا۔ معاملہ پہلے لاہور ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ پہنچا، جہاں فریقین کے اتفاق سے اسے ثالثی عدالت کے سپرد کیا گیا۔

 

سپریم کورٹ کے جسٹس ریٹائیرڈ مقبول باقر کی سربراہی میں قائم ٹربیونل نے طویل سماعت کے بعد یہ قرار دیا کہ شیئرز کی منتقلی قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھی اور رانا فواد کو ان کے حقوق سے محروم کیا گیا، جس پر موجودہ مالکان کو فرنچائز واپس کرنے یا بھاری مالی ادائیگی کا حکم دیا گیا۔

تاہم لاہور قلندرز کی موجودہ انتظامیہ اس فیصلے کو حتمی ماننے کو تیار نہیں اور اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹھ برس کے آڈٹ ریکارڈ میں تمام معاملات شفاف ہیں اور یہ تنازعہ خاندانی نوعیت کا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر عدالت نے ثالثی فیصلے کو برقرار رکھا تو لاہور قلندرز کی ملکیت میں بڑی تبدیلی ممکن ہے، جبکہ فیصلہ معطل ہونے کی صورت میں یہ قانونی جنگ مزید طویل ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں لاہور قلندرز کے شائقین کی نظریں عدالت پر مرکوز ہیں، جو ایک بار پھر اس سوال کا جواب دیں گی کہ کیا ٹیم کی اصل پہچان سمجھے جانے والے رانا فواد دوبارہ لاہور قلندرز کا کنٹرول سنبھال پائیں گے یا نہیں۔

 

Back to top button