ایران امریکہ جنگ بندی کے بعد پاک افغان جنگ بندی کا امکان

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد چین میں ہونے والے سات روزہ پاک افغان مذاکرات کے نتیجے میں دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین بھی جنگ بندی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے دوران ثالثی کرنے والے چین نے پاک افغان مذاکرات میں بھی ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق اورمچی شہر میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پاکستانی اور افغان وفود نے کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع حل تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ چینی فارن آفس کے ترجمان ماؤننگ نے بیجنگ میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ فریقین نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کریں گے جس سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ چین اس مزاکراتی عمل میں سہولت کار کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا جاری رکھے گا اور مذاکرات کے تسلسل کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرے گا۔
یاد رہے کہ پاک افغان مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے جب دونوں ممالک کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں اور پاکستانی فضائیہ پچھلے ایک مہینے سے افغانستان میں موجود طالبان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ یاد رہے کہ ماضی قریب میں بھی قطر، ترکی اور سعودی عرب کی ثالثی میں پاک افغان مذاکرات کی کوششیں کی گئیں، تاہم وہ کسی ٹھوس نتیجے پر منتج نہ ہو سکیں۔ اس کے برعکس، چین کی سہولت کاری سے ہونے والے پاک افغان مذاکرات کو نسبتاً زیادہ مثبت قرار دیا جا رہا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ چین کا فعال اور منظم کردار ہے۔
چینی حکام کے مطابق اورمچی مین ہونے والے اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر ہیں۔ فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ باہمی اختلافات کے حل کے لیے مکالمہ ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سہ فریقی مذاکرات کے دوران چین نے پاکستان مخالف دہشت گردی کو دونوں ممالک کے تعلقات میں بنیادی مسئلہ قرار دیا، جبکہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ’اورمچی مذاکرات‘ کو آئندہ مرحلے میں بھی جاری رکھا جائے گا۔ پاکستان کی جانب سے چین میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات کے حوالے سے اگرچہ ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کا مرکزی مؤقف بدستور یہی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
حالیہ کور کمانڈ کانفرنس میں بھی اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ پاکستان خاص طور پر اپنے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے والے تحریک طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے، اور یہ چاہتا ہے کہ افغان حکومت ان تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔
دوسری جانب افغان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ لیکن دوسری جانب پاکستان یہ موقف تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔
طالبان حکومت کی جانب سے تحریک طالبان کے مطلوب دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کے بعد آخری حربے کے طور پر افغان سرحد پر واقع ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر پچھلے ایک ماہ سے فضائی بمباری کی جا رہی ہے۔ باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق اگرچہ ان مذاکرات میں اعلیٰ سطح کے وفود شریک نہیں تھے، تاہم حالیہ سفارتی روابط سے مثبت توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پیش رفت جاری رہی تو آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطح پر ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سات دن تک جاری رہنے والی بات چیت ثبوت ہے کہ دونوں ممالک نے چین میں ہونے والے مذاکرات کے دوران کھل کر اپنے مؤقف پیش کیے۔ تاہم اصل امتحان تب ہو گا جب ان نکات پر عملدرآمد شروع ہوگا۔
معروف افغان تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کے مطابق حالیہ پاک افغان مذاکرات پہلے کے مقابلے میں زیادہ مثبت رہے ہیں، جس کی ایک وجہ دونوں وفود کا نرم رویہ ہے۔ تاہم ان کے بقول اس تمام عمل کا انحصار شدت پسند تنظیموں، خصوصاً ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں میں کمی پر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کے اہم نکات میں سرحد پار دہشت گردی، سرحدی بندش، اور تجارتی روابط شامل ہیں۔
افغانستان نے پاک افغان سرحد کی بندش پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ باہمی تجارت کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جانا چاہیے اور طورخم، چمن سمیت تمام سرحدی گزرگاہیں کھلی رہنی چاہئیں۔ اگرچہ چین کی سہولت کاری کے ذریعے ہونے والے پاک افغان مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مبصرین کے مطابق ان کی کامیابی کا دارومدار عملی اقدامات پر ہوگا۔ ماضی میں مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ باہمی عدم اعتماد اور تحریری ضمانتوں پر اختلافات رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ اس میں ایک مستقل فریم ورک بنانے کی بات کی گئی ہے، جو مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان رابطے کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چین میں ہونے والے سات روزہ مذاکرات بلاشبہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہیں، جنہوں نے کشیدگی میں کمی کے امکانات کو جنم دیا ہے۔ تاہم خطے کے پیچیدہ سکیورٹی حالات، شدت پسند تنظیموں کی موجودگی، اور باہمی اعتماد کی کمی ایسے عوامل ہیں جو اس عمل کو چیلنج کرتے رہیں گے۔ ایسے میں نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ مذاکرات عملی اقدامات میں تبدیل ہو کر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو معمول پر لا سکتے ہیں یا نہیں۔
