افغانوں کی ملک بدری سے پاک افغان تعلقات دوبارہ کشیدہ

 

 

 

پاکستان سے افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر ملک بدری نے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں نئی کشیدگی کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ مہاجرین کی واپسی کے باعث سرحدی دباؤ اور انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے، جس پر عالمی برادری بھی تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ نمٹا گیا تو یہ صورتحال نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو مزید تناؤ کا شکار بنا سکتی ہے بلکہ پورے خطے کے امن، استحکام اور معاشی تعاون پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ملک بدری کی ڈیڈ لائن قریب آتے ہی پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کےخوف، غیر یقینی اور مشکلات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ الٹی میٹم نے افغان مہاجرین کی زندگیاں ایک کربناک کشمکش میں ڈال دی ہیں کیونکہ اس وقت نہ ان کے پاس واپسی کے لیے وسائل ہیں، نہ ہی افغانستان کی موجودہ صورتحال انہیں محفوظ مستقبل کی ضمانت دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ فیصلہ محض انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک انسانی المیے کو جنم دینے والا ہے جس کے اثرات نہ صرف افغان عوام بلکہ پاکستان کی ساکھ اور خطے کے استحکام کو بھی تہہ و بالا کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں اس وقت لاکھوں افغان مہاجرین آباد ہیں جن میں بڑی تعداد ان افراد کی ہے جو گزشتہ چار دہائیوں کے دوران جنگ، بدامنی اور طالبان حکومت کے دباؤ کے باعث ہجرت پر مجبور ہوئے۔ تاہم اب اچانک وطن واپسی کے حکم نے انہیں شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان سے روزگار اور کاروبار کے خاتمے کے بعد افغانستان میں بنیادی سہولتوں کی کمی اور سخت پابندیوں کے خیال نے ہی ان کے مستقبل کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام کے مطابق افغان مہاجرین کی واپسی ریاستی ضرورت ہے کیونکہ اس سے نہ صرف پاکستان پر معاشی بوجھ کم ہوگا بلکہ دہشت گردی اور اسمگلنگ جیسے مسائل پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔ حکام نے واضح کیا کہ رجسٹرڈ مہاجرین کی ملک بدری کے وقت کا تعین مختلف ہوگا، تاہم غیر رجسٹرڈ افراد کو ہر صورت واپس جانا ہوگا۔

 

افغان مہاجرین کے لیے واپسی کا سفر صرف کاغذی حد تک آسان دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ سفر مشکلات، خوف اور کسمپرسی سے بھرا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل نہ صرف انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے بلکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہوگا۔ مبصرین کہتے ہیں کہ مہاجرین کو جلد بازی میں واپس بھیجنے کے بجائے مربوط حکمت عملی اور بین الاقوامی تعاون کے تحت منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر سہولیات کی فراہمی اور واپسی کے عمل کو بہتر نہ بنایا گیا تو یہ صورتحال بڑے انسانی المیے میں بدل سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق افغان مہاجرین کی ملکی بدری پاکستان کے لیے صرف سیکیورٹی نہیں بلکہ ایک انسانی بحران کا بھی مسئلہ ہے۔ حقیقت میں اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کی فوری واپسی نہ صرف پاکستان کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ افغانستان میں بھی معاشرتی دباؤ کو کئی گنا بڑھا دے گی۔” مبصرین کے مطابق حکومت کا یہ فیصلہ وقتی طور پر ریاستی دباؤ کم کر سکتا ہے لیکن انسانی بنیادوں پر یہ نہایت سخت اقدام ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس پالیسی سے پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات لگ سکتے ہیں۔”معاشی ماہرین کے بقول افغان مہاجرین کی “ملک بدری کا عمل پاکستان کی کمزور معیشت پر وقتی ریلیف لا سکتا ہے، لیکن اگر اس دوران پاکستان کو عالمی تنقید اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تو کسی معاشی فائدے کی بجائے نقصان کہیں زیادہ ہوگا۔”

سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول افغانستان پہلے ہی سیاسی افراتفری، کمزور معیشت اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہے۔ لاکھوں مہاجرین کی اچانک واپسی وہاں پہلے سے موجود مسائل کو کئی گنا بڑھا دے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود عدم اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی ملک بدری کی ڈیڈ لائن میں صرف آٹھ دن باقی ہیں، لیکن لاکھوں افغان مہاجرین کے لیے یہ آٹھ دن برسوں کے برابر ہیں کیونکہ افغانی اس وقت نہ پاکستان میں اپنا مستقبل دیکھتے ہیں اور نہ ہی افغانستان میں محفوظ زندگی۔ مبصرین کے مطابق اگر اس مسئلے کو انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی تعاون کے تحت حل نہ کیا گیا تو یہ ایشو نہ صرف ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دے گا بلکہ اس کے منفی اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

Back to top button