پاک فضائیہ کا ہدف افغان فوجی تنصیبات اور TTP کے ٹھکانے

افغان حکومت کے پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ کے بعد سے پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے کابل، قندھار اور پکتیا صوبوں میں افغان طالبان کی اہم ترین فوجی تنصیبات اور تحریک طالبان کے دہشت گردی کے مراکز پر بھر پور حملے جاری ہیں اور انہیں تباہ کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی اور زمینی کارروائیاں مربوط حکمت عملی کے تحت جاری ہیں اور اہم عسکری تنصیبات کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔
ملٹری ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان کی سرپرستی میں تحریک طالبان کی جانب سے ہونے والی مسلسل دہشت گردی کے باوجود افغانستان سے کھلی جنگ کو آخری آپشن کے طور پر رکھا تھا، تاہم افغانستان کی جانب سے پاکستان پر جنگ تھوپے جانے کے بعد اب یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ یہ جنگ تب تک نہیں رکے گی جب تک دشمن کو بھرپور جواب دیتے ہوئے اسے دھول نہیں چٹا دی جاتی۔
افغان جارحیت کے خلاف پاکستان کاآپریشن غضب للحق جاری،133طالبان ہلاک
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستانی ائیر فورس کی کارروائیوں میں اب تک افغان طالبان کے 133 فوجی ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق کابل، پکتیکا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم طالبان کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ان کی جوابی کارروائیوں میں 55 پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے اور متعدد کو یرغمال بنایا گیا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق ملک کی مسلح افواج کی اس کارروائی کو ’آپریشن غضب للحق‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت دو افغان کور ہیڈ کوارٹرز، دو اسلحہ ڈپو، ایک لاجسٹک گودام، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز اور دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز تباہ کیے گئے ہیں، جبکہ 80 سے زائد ٹینکس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ نے کابل میں دو بریگیڈ ہیڈکوارٹرز تباہ کیے، جبکہ قندھار میں ایک کور ہیڈکوارٹرز، ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹک بیس کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا۔ پکتیا میں بھی ایک اہم عسکری مرکز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
افغان طالبان نے باجوڑ میں واقعہ مسجد کو بھی نشانہ بنا ڈالا
ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے افغان طالبان کی پوسٹوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملوں کی کوششیں ناکام بنا دی گئی ہیں اور تمام ڈرونز کو بروقت کارروائی کے ذریعے گرا دیا گیا۔
ادھر افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستانی چیک پوسٹوں پر قبضے اور نقصانات کے دعوے بھی سامنے آئے، تاہم پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے ان دعوؤں کو بے بنیاد اور فیک ویڈیوز پر مبنی قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ پاک افغان کشیدگی میں تب مزید اضافہ ہوا جب افغان طالبان کی جانب سے باجوڑ میں ایک مسجد کو نشانہ بنایا گیا، مقامی ذرائع کے مطابق مارٹر گولے گرنے سے پانچ افراد زخمی ہوئے، جن میں تین خواتین شامل ہیں۔سیاسی قیادت نے بھی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ جب تک دشمن کے دانت کھٹے نہیں کر دیئے جاتے افغانستان پر فضائی حملے نہیں روکے جائیں گے.وزیر دفاع خواجہ آصف نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ کھلی جنگ ہے اور صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ افغان طالبان نے حملہ کر کے بھیانک غلطی کی ہے اور انہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، پاکستانی فورسز نےمسلح شخص کو گرفتار کر لیا
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جنگ نے خطے میں ایک نئی غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ سفارتی حلقے صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہری شدید تشویش کا شکار ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ واضح دکھائی دیتا ہے کہ آنے والے دن خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
