فوج پیچھے ہٹی تو عدلیہ سیاست کرنے لگی

پاکستان میں فوج کی جانب سے آئندہ سیاست میں مداخلت نہ کرنے کے معاملے پر یوں تو مختلف آرا سامنے آتی رہی ہیں، تاہم آج کل یہ معاملہ بھی موضوعِ بحث ہے کہ اگر واقعی اسٹیبلشمنٹ سیاست سے دُور ہو گئی ہے تو پھر یہ خلا کون پر کر رہا ہے؟ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے کردار پر بھی بات ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اب عدلیہ مخالف بیانیہ اپنا رکھا ہے جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف بظاہر اب اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے پر چل رہی ہے۔گو کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز سماعتوں کے دوران سیاسی معاملات کو پارلیمان میں ہی حل کرنے کی ہدایت کرتے ہیں، لیکن سیاسی جماعتوں کے ایک دوسرے پر عدم اعتماد کے باعث یہ اہم نوعیت کے قومی معاملات عدالتوں میں ہی جا رہے ہیں۔ بعض حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ شاید اب عدلیہ اس خلا کو پر کر رہی ہے۔
پاکستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا سیاسی جماعتوں میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ اپنے معاملات خود طے کر سکیں؟ کیا سیاسی انتشار اور تلخیوں کے اس ماحول میں کسی تیسری قوت کی مداخلت کے بغیر سیاست دان ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے حوالے سے تجزیہ کار اور سیاسی رہنما مختلف آراء کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ واقعی سیاسی معاملات سے دُور ہو گئی ہے؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ فوج کی جانب سے دعویٰ تو کیا جا رہا ہے کہ وہ سیاسی معاملات سے دُور ہو گئے ہیں۔ لیکن یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اس دعوے میں کتنی صداقت ہے۔اُن کے بقول فی الحال سیاسی معاملات میں فوج کی کھلی مداخلت دکھائی نہیں دے رہی۔ مجیب الرحمٰن شامی کا کہنا تھا کہ کچھ معاملات ایسے ہیں جس سے شبہہ جنم لے رہا کہ شاید اب بھی اسٹیبلشمنٹ کا کردار مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
دوسری جانب تجزیہ کار ایاز امیر یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ واقعی فوج کی سیاست میں مداخلت ختم ہو گئی ہے؟ اُن کا کہنا تھا کہ اُنہیں نہیں لگتا کہ موجودہ حکومت میں اتنا دم خم ہے کہ وہ بغیر کسی مدد کے چل سکے۔ اگر ‘وہ’ پیچھٹے ہٹ جائیں تو موجودہ حکومت ایک دِن نہیں چل سکتی۔لاہور ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال کہتی ہیں کہ بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ اب مداخلت نہیں ہو رہی۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ تاثر بھی درست نہیں کہ عدلیہ اس خلا کو پر کر رہی ہے کیوں کہ عدلیہ بھی ریاست کا ستون ہے اور جب ریاست میں کوئی ڈیڈ لاک آجائے تو پھر عدلیہ کو بھی اپنا کردار نبھانا پڑتا ہے۔
پاکستان میں جمہوریت اور پارلیمانی اُمور پر نظر رکھنے والے ادارے ‘پلڈاٹ’ کے سربراہ احمد بلال محبوب، مجیب الرحمٰن شامی اور جسٹس ناصرہ اقبال سے اتفاق کرتے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ ایسے کوئی حالات نظر نہیں آتے جس سے لگ رہا ہو کہ اسٹیبلشمنٹ سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے۔ لیکن اُن کے بقول پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں اسٹیبلشمنٹ کی قومی معاملات میں چھاپ کے باعث اتنا آسان نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاسی معاملات سے بالکل ہی الگ تھلگ ہو جائے۔احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے برعکس جنرل عاصم منیر عوامی سطح پر اتنے متحرک نہیں ہیں جس طرح جنرل (ر) باجوہ مختلف فورمز پر جا کر اظہارِ خیال کرتے تھے۔ فی الحال ایسی کوئی صورتِ حال نہیں ہے۔
جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال کہتی ہیں کہ اگر سیاست دان اپنے فیصلے خود کر لیں تو پھر عدلیہ کو مداخلت کا موقع نہیں ملے گا۔اُن کے بقول اگر عدلیہ کو لگتا ہے کہ کوئی معاملہ پارلیمان میں حل ہو سکتا ہے تو پھر کئی ایسے مواقع آئے ہیں جب عدلیہ کہتی رہی ہے کہ یہ معاملہ سیاست دانوں کو خود حل کرنا چاہیے۔مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ اس وقت حکمراں اتحاد بھی ایک طرح سے داخلی خلفشار کا شکار ہے۔ نواز شریف کا مستقبل بھی غیر یقینی ہے۔ دوسری جانب عمران خان مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں۔اُن کے بقول ان حالات میں جب سیاست دان خود فیصلے نہیں کریں گے تو پھر تیسری قوت کو مداخلت کا موقع ملے گا وہ چاہے عدلیہ ہو یا اسٹیبلشمنٹ۔مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں ایسا بار بار ہوتا رہا ہے جب تیسری قوت ہی سیاسی معاملات کو آگے بڑھاتی ہے۔
تاہم یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ حقیقی معنوں میں غیر سیاسی ہو چکی ہے تو یہ خلا کون سا ادارہ پر کر رہا ہے؟ احمد بلال محبوب سمجھتے ہیں کہ اِس خلا کو طاقت ور ادارے ہی پُر کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے نظام میں طاقت ور ادارہ عدلیہ ہے جس کے فیصلے کی بنیاد پر وزیراعظم آتے جاتے رہے ہیں۔اُن کے بقول حکومت کے پاس بھی بے پناہ طاقت ہوتی ہے اور انتظامی کنٹرول اس کے پاس ہوتا ہے۔ لیکن جس ادارے پارلیمنٹ کو زیادہ متحرک اور فعال ہونا چاہیے، بدقسمتی سے وہ اپنا کردار ادا نہیں کر پا رہی۔جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال کہتی ہیں کہ جس معاشرے میں اختلاف رائے بہت زیادہ ہو اور سیاسی معاملات بار بار رُک جاتے ہوں تو پھر عدلیہ کو ہی مجبوراً آگے آنا پڑتا ہے۔
مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ عدلیہ اپنے فیصلوں کی حد تک ہی اثرانداز ہوتی ہے،براہِ راست انتظامی معاملات نہیں سنبھال سکتی جب کہ فوج کو جب لگتا ہے کہ ملک نہیں چل رہا تو وہ خود بھی اقتدار سنبھال لیتی ہے جس کی پاکستان میں طویل تاریخ ہے۔اُن کے بقول عدلیہ کو بھی چاہیے کہ اُس کے فیصلوں میں کسی جانب کوئی جھکاؤ نظر نہ آئے اور فریقین کو اس پر اعتماد ہو۔ لیکن جب بار بار عدلیہ کے دروازے پر دستک دی جائے گی تو پھر ایک فریق خوش اور دوسرا ناراض تو ہوگا۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حال ہی میں تین، دو کی اکثریت سے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں میں 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف اس فیصلے کا خیر مقدم جب کہ مسلم لیگ (ن) اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔
واضح رہے کہ مریم نواز ان دنوں اپنی جماعت کے تنظیمی دوروں پر ہیں۔ گزشتہ ہفتے سرگودھا میں پارٹی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے گند کا ٹوکرا پھینک دیا تو ججز نے اسے اٹھا لیا۔اس موقع پر انہوں نے پانچ افراد کی تصاویر بھی اسکرین پر چلوائیں جن میں سپریم کورٹ کے دو موجودہ ججز جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی سمیت دو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف اور ملک کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ جنرل فیض حمید شامل تھے۔انہوں نے الزام لگایا تھا کہ نواز شریف کے خلاف سازش میں پانچ افراد کا ٹولہ شامل تھا۔ یہی پانچ کا ٹولہ پاکستان کی بدحالی کا ذمے دار ہے اور جنرل(ر) فیض حمید کو انہوں نے اس ٹولے کا سرغنہ قرار دیا۔
مبصرین سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے ججز مخالف نئے بیانیے کے فائدے کے ساتھ نقصانات بھی ہو سکتے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ عدلیہ اس تنقید کو کیسے لیتی ہے۔ تجریہ کار اور سینئر صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کے سربراہ نواز شریف کا بیانیہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے خلاف تھا لیکن اب مسلم لیگ(ن) کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک طرح کے مذاکرات ہو گئے ہیں اور انہیں حکومت مل گئی ہے جس کے بعد ان کا بیانیہ عدلیہ مخالف ہے۔ان کے بقول اب جو کچھ بھی ان کے بیانیے میں نظر آئے گا وہ ججز کے خلاف ہوگا۔ نواز شریف کےمقدمات کے خلاف ہوگا۔ ان کو سزا دینے کے خلاف ہوگا۔
