9،مئی جیسی شرپسندی کی پلاننگ کرنے والوں کی ٹھکائی کا فیصلہ

نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ تحریک انصاف کے چند شکست خوردہ عناصر کی جانب سے 9 مئی جیسی ایک اور شرپسندانہ کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی نے انتخابات میں دھاندلی کا بہانہ بنا کر احتجاج کی آڑ میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو شرپسند عناصر سے پوری طاقت سے نمٹا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح چوکس ہیں۔ فساد پھیلانے پر پارٹی پر پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ جس سے آزاد حیثیت میں منتخب ارکان بھی نا اہل ہو جائیں گے۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست کے ذمہ داران یہ طے کر چکے ہیں کہ 9 مئی جیسا واقعہ کسی صورت دوبارہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اگر انتخابات میں دھاندلی کا بہانہ بنا کر پی ٹی آئی نے فساد پھیلانے کی کوشش کی تو اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اسلام آباد میں موجود اہم ذرائع نے بتایا کہ الیکشن سے پہلے ہی ریاست کو اس سازش کی بو محسوس ہو گئی تھی کہ پی ٹی آئی یہ ذہن بنا چکی ہے کہ اگر دوبارہ اقتدار اس کی جھولی میں نہیں ڈالا جا تا تو پھر چاہے الیکشن کے نتائج کچھ بھی ہوں، اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اور انتخابات میں دھاندلی کا پروپیگنڈہ کر کے ایک بار پھر پر تشدد احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ اس نوعیت کے پلان سے متعلق گفتگو بھی مختلف واٹس ایپ گروپس میں پکڑی گئی تھی۔ جس پر کاؤنٹر اسٹریٹجی پہلے ہی تیار کر لی گئی تھی کہ اس بار انتشار پھیلانے کی کسی بھی کوشش کو بروقت پوری طاقت سے کچل دیا جائے گا۔ ذرائع کے بقول الیکشن کے بعد انتخابات میں دھاندلی کے پروپیگنڈے کو جس طرح مسلسل پھیلایا جارہا ہے۔ اس سے پی ٹی آئی کے عزائم آشکار ہورہے ہیں کہ کس طرح وہ پہلے سے طے شدہ پلان پر عمل در آمد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال کو بھی اسی نظر سے دیکھا جار ہا ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان سے جیل میں ملاقات کرنے والے وکلا نے یہ اعلان کیا تھا کہ بانی تحریک انصاف نے پر امن احتجاج کی کال دی ہے۔ جس پر پی ٹی آئی نے پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیوں کا پلان ترتیب دیا۔ دلچسپ امر ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں مفرور حماد اظہر نے بھی اس احتجاج میں شرکت کا اعلان کیا تھا۔ تاہم پھر اسی حماد اظہر کی جانب سے اچانک احتجاج ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔
اس معاملے سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے احتجاج اس لیے مؤخر کیا کہ اسے یہ سن گن مل گئی تھی کہ اس بار 9 مئی جیسی کسی بھی کوشش کو فوری طور پر کچلنے کی تیاری مکمل ہے۔ چنانچہ پی ٹی آئی نے احتجاج مؤخر کرنے میں عافیت جانی۔ ذرائع کے بقول قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں نے اپنے ایس او پیز تیار کر لیے ہیں۔ انتشار اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پولیس، ایف سی اور آرمی پوری طرح الرٹ ہے۔ ملک میں انتشار پھیلانے اور دہشت گردی کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے۔ اب 9 مئی جیسے کسی واقعہ یا جتھے کو حد سے نکلنے سے پہلے کنٹرول کر لیا جائے گا۔ حالات کو اس نچ پر پہنچنے ہی نہیں دیا جائے گا کہ بیک فٹ پر جانا پڑے۔ پوری طاقت کے ساتھ انتشار اور دہشت گردی کو کچلا جائے گا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی کو بہانہ بنا کر پی ٹی آئی دوبارہ فساد یا انتشار کے پلان پر عمل کرتی ہے تو اس پر فوری پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے۔ قصہ مختصر انتشار سے نمٹنے کے لیے ہر قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ اب یہ پی ٹی آئی پر منحصر ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی پر پابندی کی صورت میں آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے اس کے سارے ارکان پارلیمنٹ بھی نا اہل ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے بقول پی ٹی آئی کو اصل فرسٹریشن یہ ہے کہ انتخابات سے اس نے جو توقع لگا رکھی تھی کہ وہ پورے ملک میں کلین سویپ کرے گی ، وہ پوری نہیں ہو سکی۔ سندھ اور بلوچستان سے اس کا تقریباً صفایا ہو چکا۔ پنجاب میں نون لیگ اکثریتی سیٹیں لے کر سرفہرست ہے۔ ایک خیبر پختو نخوا اس کے ہاتھ آیا ہے۔ دوسری فرسٹریشن یہ ہے کہ اب تک ریاست کی کوئی اعلیٰ شخصیت عمران خان کے ساتھ مذاکرات کے لیے اڈیالہ جیل کیوں نہیں پہنچی۔ اس فرسٹریشن کو لے کر پی ٹی آئی نے اپنے تئیں سوشل میڈ یا پر یہ پروپیگنڈا بھی کیا کہ ایک اعلیٰ شخصیت نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی ہے۔ یہ ایک سو ایک فیصد جھوٹ ہے کیونکہ ریاست عمران خان سے مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں علی امین گنڈا پور کو سب سے آگے قرار دیا جارہا ہے۔ جو 9 مئی کے واقعات میں مطلوب ہے اور اب تک مفرور ہے۔ جبکہ اس کی گفتگو پر مبنی ٹپس ریکارڈ پر ہیں کہ پچیس مئی کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر سارے اسلحے کا بندوبست علی امین گنڈا پور نے کیا تھا۔ ایسے شخص کو خیبر پختو نخوا کا وزیر اعلیٰ بنانے کی تیاری سے پی ٹی آئی کے عزائم کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک طرح سے ریاست کو چیلنج کر رہی ہے۔
دوسری طرف انتخابات میں دھاندلی کا واویلا کرنے والی پی ٹی آئی دانستہ ایسے مطالبات کر رہی ہے جو قابل عمل نہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ فارم 45 میں رد و بدل کر کے اسے 70 سے 80 سیٹوں سے محروم کیا گیا، جو قرین از قیاس نہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس حوالے سے بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات آپس میں نہیں ملتے ۔ پہلے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی کی سیٹوں کی اصل تعداد 170 ہے۔ پھر بیرسٹر علی ظفر نے یہ تعداد 156 بتائی۔ علیمہ باجی نے تو مبالغہ آرائی کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے اصل تعداد 180 کا دعویٰ کر ڈالا۔ شیر مروت اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور ان کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی کی سیٹوں کی تعداد 188 ہے۔ ان دعوؤں سے پی ٹی آئی کے ان عزائم کی واضح نشاندہی ہوتی ہے کہ وہ الیکشن کو تب ہی شفاف تسلیم کرے گی ، جب اقتدار اس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ بصورت دیگر وہ ” پر امن احتجاج کے ذریعے انتشار پھیلائے گی ۔ تاہم اس بار عمرانڈوز کو کوئی چھوٹ نہیں ملے گی بلکہ انتشار کی کسی بھی کوشش کو پوری طاقت سے کچل دیا جائے گا۔
