فوجی اسٹیبلشمنٹ ماضی کی غلطی دوبارہ نہیں دہرائے گی

اپنے دور اقتدار میں "ایک پیج”کی گردان الاپنے والے عمران خان نے طاقت کے ایوانوں سے بے دخلی کے بعد سابقہ آرمی چیف جنرل باجوہ پر الزام تراشیوں اور بہتان بازیوں کی ایسی تاریخ رقم کی جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ جنرل باجوہ کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کرنے کے بعد اب عمران خان نے موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیربارے بھی زبان درازی شروع کر دی ہے۔ اپنے حالیہ بیان میں عمران خان کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مجھ سے بات کرنے سے گریزاں ہے جبکہ موجودہ آرمی چیف مجھے اپنا دشمن سمجھتے ہیں ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ میری حفاظت کے ذمہ دار ہیں مجھے ان  سے ہی جان کا خطرہ ہے۔ عمران خان کی حالیہ گفتگو سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کا اصل مقصد کیا ہے؟ اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ ان کے حق میں دوباہ سیاست میں مداخلت کرے،سابق وزیر اعظم عمران خان کو یقین ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر اقتدار میں نہیں آسکتے،سینئر تجزیہ کار محمل سرفرازکا کہنا ہے کہ کہ عمران خان چاہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ ان کے حق میں مداخلت کرے، ماضی میں بھی ان سے اپنی حکومت اور پارٹی مینج نہیں ہوتی تھی اور وہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ہی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے تھے۔

دوسری جانب عمران خان کے حمایتی ارشاد بھٹی بھی اقرار کرتے ہیں کہ فوج نیوٹرل نہیں ہوتی تو عمران خان آج بھی حکومت میں ہوتے، تاہم تمام تر اختلافات کے باوجود عمران خان مقبول ترین جماعت کے سربراہ ہیں اداروں کو ان سے بات کرنی چاہئے، ملک ڈوب رہا ہے اس وقت سب کو مل کر بیٹھنا پڑے گا، ارشاد بھٹی کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان جس جنرل باجوہ پر آج تنقید کررہے ہیں کبھی ان پر تنقید غداری ہوا کرتی تھی، کبھی جنرل باجوہ عمران خان کے آئیڈیل، محسن اور مددگار تھے۔ ارشاد بھٹی کے بقول عمران خان جس جنرل باجوہ کا کورٹ مارشل چاہتے ہیں ان سے ایوان صدر میں منت و سماجت کے بعد دو ملاقاتیں کیوں کی تھیں اور انہیں توسیع کی پیشکش کیوں کی تھی، عمران خان اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو جنرل باجوہ کے کھاتے میں ڈال کر خود بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازیکے مطابق اگر جنرل باجوہ نے ننگا خنجر اس وقت عمران خان کی کمر میں گھونپا ہوا تھا جب وہ زخمی تھے تو عمران خان جنرل باجوہ کو غیرمعینہ مدت کیلئے توسیع دینے پر کیوں تیار تھے، ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے متعلق ایک دن ایک اوردوسرے دن دوسری بات کردیتے ہیں، عمران خان کو یقین ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر اقتدار میں نہیں آسکتے، عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ پر تنقید اور الزام تراشیوں سے خاطر خواہ فائدہ ہوا ہے، اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ انہیں اقتدار نہیں دے گی۔

سینئر صحافی منیب فاروق کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ کی سبکدوشی کے بعد عمران خان نے بھونڈی سازش کی کہ جنرل عاصم منیر پاکستان کے آرمی چیف نہ بن سکیں اس کی لمبے عرصے تک معافی نہیں ہے۔ عمران خان نے جنرل عاصم منیر کے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ سازش کی جو جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف بننے کے حق میں نہیں تھے، اس سازش میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی بھی شامل تھے، ان کا کورٹ مارشل بھی ممکن تھا اس لیے انہوں نے فوری طور پر خود کو عہدے اور اقتدار سے علیحدہ کیا، اسٹیبلشمنٹ عمران خان پر اب بھروسہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے، عمران خان سے اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کوئی رابطہ نہیں کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ 3مارچ کو زمان پارک لاہور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے میری کوئی لڑائی نہیں، لیکن ایسے لگتا ہے آرمی چیف مجھے اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہوں اب کوئی مجھ سے بات کرنے کو تیار نہیں تو میں کیا کر سکتا ہوں؟ لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی لڑائی نہیں لیکن کوئی یہ سمجھتا ہے کہ گھٹنے ٹیک دوں تو یہ نہیں ہو سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ اب کوئی بات کرنے کو تیار نہیں تو میں کیا کروں لیکن ملک کی بہتری کے لیے آرمی چیف سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں۔عمران خان نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ مجھ پر اور میری اہلیہ پر کرپشن کا ایک کیس ثابت کر دیں، آرمی چیف ہی میرے خلاف کوئی کرپشن کا کیس نکال لیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ آرمی چیف مجھے اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو سمجھ نہیں ہے کہ سیاست کیا ہوتی ہے، جنہوں نے میری حفاظت کرنی ہے مجھے ان سے ہی خطرہ ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے سابق آرمی چیف پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے میری کمر میں چاقو مارا۔انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) قمرجاوید باجوہ نے روس کی مخالفت میں تقریر کی، اس تقریر پر جنرل باجوہ کا کورٹ مارشل ہونا چاہئے۔

محمد خان بھٹی کاججوں کو رشوت دینے کا اعتراف

Back to top button