روسی حملے کے بعد پاک انڈیا ایٹمی جنگ کے خدشات پر بحث

روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے اپنی فوج کو ہمسایہ ملک یوکرین پر ایٹمی حملے کے لئے تیاری کا حکم ملنے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑنے کے خدشات پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے کیونکہ دونوں ممالک جوہری صلاحیت کے حامل ہیں لہذا پاک انڈیا ایٹمی جنگ کی صورت میں پورا خطہ تباہی کی لپیٹ میں آ جائے گا۔یاد رہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ھملے کے چوتھے روز روسی افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی نیکلئیر فورسز کو خصوصی الرٹ پر لے آئیں تاکہ بوقت ضرورت ان کا استعمال بھی کیا جا سکے۔

خیال رہے کہ روسی صدر پہلے ہی دبے الفاظ میں خبردار کر چکے ہیں کہ وہ یوکرین پر حملے کے آغاز میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے خواہاں تھے۔ انکا کہنا تھا کہ یوکرین کو مغربی اتحاد کا حصہ بننے پر ایسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جو کسی نے نہیں دیکھے ہوں گے۔ پوتن کے ان الفاظ کو بڑے پیمانے پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا تاہم سکیورٹی ماہرین کے مطابق ‘خصوصی’ الرٹ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہتھیاروں کو لانچ کرنا آسان ہو گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ صورتحال میں ان ہتھیاروں کے استعمال کا ارداہ ہے۔ امریکہ نے روسی صدر پوتن کی جانب سے جوہری فورسز کو ‘خصوصی’ الرٹ پر رکھنے کے بیان پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے اسے ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ ایٹمی ہتھیار انتہائی تباہ کن اور مہلک ہوتے ہیں اور ان کے دھماکے اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ صرف ایک جوہری بم پورے شہر کو تباہ کر سکتا ہے۔ ایک جوہری بم سب سے بڑے غیر جوہری بم سے کہیں زیادہ تباہی لا سکتا ہے۔ جوہری بم تاریخ میں صرف دو بار استعمال ہوئے ہیں 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ نے جاپان پر دو ایٹم بم گرائے گئے جن سے شدید تباہی اور بہت زیادہ جانی نقصان ہوا۔ ہیروشیما پر گرائے جانے والے بم کے اثرات کئی ماہ تک رہے اور اندازے کے مطابق 80 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ناگاساکی پر گرائے جانے والے بم سے 70 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد کسی بھی جنگ میں ان کا استعمال نہیں ہوا۔ جوہری ہتھیاروں سے بڑی تعداد میں تابکاری خارج ہوتی ہے۔

اس وقت دنیا میں پانچ تسلیم شدہ جوہری ریاستیں امریکہ، چین، برطانیہ، فرانس اور روس ہیں جبکہ چار دیگر ممالک بھی جوہری ہتھیار رکھتے ہیں۔ ان میں سے انڈیا، پاکستان اور شمالی کوریا جوہری تجربات کر چکے ہیں جبکہ اسرائیل کے بارے میں یہی خیال ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، تاہم سرکاری طور پر اس کی نہ تصدیق کی جاتی ہے نہ تردید۔
اندازوں کے مطابق ان ممالک کے پاس کل ہتھیاروں کی تعداد 14 ہزار کے لگ بھگ ہے اور ان میں سے زیادہ تر ہتھیار امریکہ اور روس کے پاس ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ 2019 میں لگائے گئے اندازوں کے مطابق روس کے پاس چار ہزار سے زیادہ جبکہ امریکہ کے پاس چار ہزار کے قریب جوہری ہتھیار موجود ہیں جن میں سے دونوں ممالک میں ایک ہزار سے زیادہ ہائی الرٹ پر ہیں۔ ان کے بعد فرانس کا نمبر آتا ہے جس کے پاس 300 جوہری ہتھیار ہیں۔ چین کے جوہری اسلحے کی تعداد 290 کے لگ بھگ ہے لیکن اس میں تیزی سے اضافے کا امکان ظاہر کیا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چین جلد امریکہ اور روس کے بعد ایسے ہتھیار رکھنے والا تیسرا بڑا ملک بن جائے گا۔
اس فہرست میں پانچواں نمبر برطانیہ کا ہے جس کے ہتھیاروں کی تعداد 200 بتائی جاتی ہے۔ اس کے بعد دو جنوبی ایشیائی ممالک پاکستان اور انڈیا کی باری آتی ہے جن کے بعد بالترتیب 160 اور 140 جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے۔ فہرست میں آٹھواں نمبر اسرائیل کا ہے جس کے بعد اندازہ ہے کہ 90 جوہری ہتھیار ہیں جبکہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد 30 بتائی جاتی ہے۔
روس کی جانب سے ہمسایہ ملک یوکرین پر حملے اور اپنی افواج کو ایٹمی حملے کے لئے الرٹ رہنے کی ہدایت کے بعد امن پسند حلقوں نے ایٹمی جنگ چھڑنے کے حوالے سے خدشات کا اظہار شروع کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ یوکرین کے پاس ایٹمی صلاحیت سرے سے موجود ہی نہیں جبکہ روس کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یوکرین ایٹمی حملے کا جواب ایٹم بم سے ہرگز نہیں دے سکتا تاہم روس کی جانب سے ایٹم بم کا ممکنہ استعمال پورے یورپ کے لئے درد سر بنا ہوا ہے۔ جنگ کے اس ماحول میں جنوبی ایشیاء کے دو روایتی حریفوں انڈیا اور پاکستان کے ممکنہ جوہری حادثات یا ایٹمی جنگ روکنے کے لیے اقدامات کے حوالے سے بھی کئی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آزاد مبصرین کا کہنا ہے کہ
پاکستان اور انڈیا کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے باضابطہ طریقوں کی عدم موجودگی خطے کے سٹریٹیجک جوہری ماحول کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے اثرات و مضمرات لیے ہوئے ہے۔ علاقائی اور جوہری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں سٹریٹیجک جوہری توازن میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں نے دونوں ممالک کے درمیان جوہری حادثات سے بچاؤ کے لیے دس سال قبل ہونے والے معاہدے میں متعدد سقم پیدا کر دیے ہیں، جنھیں نئے معاہدوں یا جوہری امور پر مزید بات چیت کی مدد سے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور انڈیا نے ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران خطے کی جوہری صورتحال سے متعلق امور پر کوئی باضابطہ بات چیت نہیں کی جبکہ ان گزرے برسوں کے دوران دونوں ممالک نہ صرف نئی ٹیکنالوجی متعارف کروا چکے ہیں بلکہ ان کے ہاں مقامی ٹیکنالوجی میں پیشرفت بھی سامنے آ چکی ہے جس کے سبب جوہری حادثات سے بچاؤ کے لیے 21 فروری 2007 کو جس پرانے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، اس میں کئی طرح کے سقم آ چکے ہیں۔ ماہرین کے بقول اس معاہدے کے ساتھ یہ غیر اعلانیہ مفاہمت بھی ہوئی تھی کہ دونوں ممالک جوہری ہتھیار اور انھیں لے جانے والے نظام یعنی اسلحے کو تیار یا فوری استعمال کی حالت میں نہیں رکھیں گے لیکن جدید میزائل سسٹم اور بھارت کے پاس ایٹمی ابدوز آنے کے بعد پاک بھارت ایٹمی جنگ چھڑنے کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

Pak-India nuclear war fears after Russian invasion video

Back to top button