جنگ کے دوران پاک ایران راہداری نظام ختم، نئی پابندیاں نافذ 

 

 

 

ایران میں جاری جنگ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایران کے ساتھ چھ دہائیوں سے نافذ ویزے کے بغیر داخلے کا ’سرحدی راہداری نظام‘ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور دونوں ممالک کے مابین پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر آمدورفت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت اس اقدام کو سرحدی نظم و نسق بہتر بنانے، غیر قانونی نقل و حرکت روکنے اور سکیورٹی کو مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے۔ تاہم پاک ایران سرحد سے ملحق اضلاع کے رہائشی اور تاجر اس حکومتی فیصلے کو اپنی معاشی سرگرمیوں، روزگار اور سرحد پار خاندانی روابط کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

 

خیال رہے کہ پاکستان اور ایران کے مابین ویزے کے بغیر راہداری کا یہ نظام کئی دہائیوں بلکہ بعض روایات کے مطابق ڈیڑھ صدی سے بھی زیادہ عرصے سے رائج تھا، جس کے تحت سرحدی اضلاع کے رہائشیوں کو محدود مدت اور مخصوص علاقوں تک پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر آمد و رفت کی اجازت دی جاتی تھی۔ بلوچستان کے ایران سے ملحقہ اضلاع چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر کے رہائشی سال میں دو مرتبہ تقریباً پندرہ دن کے لیے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ یہ اجازت نامے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز جاری کرتے تھے، تاہم اب اس نظام کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، بلوچستان حکومت کے مطابق اب راہداری نظام کی جگہ مکمل ’ون ڈاکومنٹ رجیم‘ نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت کسی کو بھی پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سرحدی علاقوں میں غیر قانونی آمد و رفت، منشیات، تیل، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور دیگر سمگلنگ نیٹ ورکس کے خاتمے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ سکیورٹی اداروں کے تجزیے کے مطابق انہی غیر قانونی سرگرمیوں کی آڑ میں شدت پسند گروہوں کو مالی معاونت ملتی رہی ہے، جس کے باعث بلوچستان میں پائیدار امن کا قیام مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اب اس راہداری سے بغیر ویزے کےآمدورفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشنز کے مطابق یکم اپریل 2026 سے ایران کے ساتھ ’راہداری‘ کے ذریعے آمدورفت کا نظام مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، اور اب سرحد عبور کرنے کے لیے پاسپورٹ اور ایرانی ویزا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

 

حکومتی مؤقف یہ ہے کہ اس فیصلے کا ایران میں جاری جنگی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ایک پرانا طے شدہ اقدام ہے جس پر اب عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اپیکس کمیٹی نے امن و امان کے پیش نظر سرحدی آمدورفت کو باضابطہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا، اور اسی پالیسی کے تحت پہلے افغانستان اور اب ایران کی سرحد پر یہ نظام نافذ کیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سرحد پار سفر کے لیے پاسپورٹ اور ویزا ہی مستند طریقہ کار ہے، لہٰذا پاکستان بھی اب اسی اصول کو اپنارہا ہے۔

 

سیاسی مبصرین اس حکومتی فیصلے کو دو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایک رائے یہ ہے کہ ریاست کو سکیورٹی خدشات، سمگلنگ اور غیر قانونی آمدورفت کو کنٹرول کرنے کے لیے سرحدی نظام کو ریگولیٹ کرنا ناگزیر تھا، اور راہداری جیسے غیر رسمی طریقہ کار کو ختم کرنا اسی سمت میں ایک قدم ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہو اور ریاستی ادارے زیادہ کنٹرول اور نگرانی چاہتے ہوں۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے میں انسانی اور مقامی حقائق کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق راہداری نظام صرف ایک سفری سہولت نہیں تھا بلکہ سرحدی معاشرت کا ایک بنیادی ستون تھا، جس کے ذریعے لوگ اپنی ثقافت، رشتہ داریوں اور معیشت کو زندہ رکھے ہوئے تھے۔ اچانک اس نظام کا خاتمہ نہ صرف معاشی مشکلات کو بڑھائے گا بلکہ ریاست اور مقامی آبادی کے درمیان فاصلے بھی پیدا کر سکتا ہے۔

 

واضح رہے کہ ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد تقریباً 900 کلومیٹر طویل ہے اور اس کے دونوں اطراف بلوچ قبائل صدیوں سے آباد ہیں، جن کے درمیان نہ صرف قریبی رشتہ داریاں ہیں بلکہ روزگار، تجارت اور روزمرہ زندگی کا انحصار بھی ایک دوسرے پر رہا ہے۔ ماضی میں ان لوگوں کو 60 کلومیٹر تک سرحد پار نقل و حرکت، مویشی چرانے اور اشیا کی خرید و فروخت کی اجازت تھی، جو وقت کے ساتھ راہداری نظام کی شکل اختیار کر گئی۔ جس پر اب پابندی عائد کر دی گئی ہے، ایران بلوچستان سرحدی علاقوں کے مکینوں کے لیے یہ فیصلہ محض ایک پالیسی تبدیلی نہیں بلکہ اس فیصلے نے ان کے معمولات زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔  سرحدی اضلاع کے رہائشی اس حکومتی فیصلے کو اپنے لیے بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں جانب بلوچ آبادی کے خاندانی اور تجارتی روابط صدیوں پر محیط ہیں اور راہداری نظام ان تعلقات کو برقرار رکھنے کا ایک عملی ذریعہ تھا۔ زمینی راستے کی بندش یا سختی کے باعث لوگوں کو کوئٹہ یا کراچی جا کر مہنگا فضائی سفر اختیار کرنا پڑتا ہے، جو عام شہری اور چھوٹے تاجروں کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ تاجروں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف عالمی پابندیوں اور خطے میں کشیدگی کے باعث تجارت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں مزید پابندیاں معاشی سرگرمیوں کو مزید محدود کر سکتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق اگر مکمل دستاویزی نظام نافذ کرنا ناگزیر ہے تو اس کے ساتھ زمینی امیگریشن کو فعال اور آسان بنایا جائے تاکہ قانونی تجارت اور عوامی آمد و رفت مکمل طور پر معطل نہ ہو۔ مبصرین کے مطابق پاکستان ایران سرحد پر راہداری نظام کا خاتمہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑی پالیسی تبدیلی ہے، جس کے اثرات سکیورٹی، معیشت اور سرحدی سماج تینوں پر مرتب ہوں گے۔ حکومت پر امید ہے کہ اس اقدام سے غیر قانونی سرگرمیوں میں کمی آئے گی اور امن و امان بہتر ہوگا، جبکہ سرحدی آبادیوں کو خدشہ ہے کہ اس سے ان کے روزگار، کاروبار اور خاندانی روابط مزید مشکل ہو جائیں گے۔

 

Back to top button