پاک فضائیہ کی بمباری: طالبان قیادت بنکروں میں چھپنے پر مجبور

افغانستان کی طالبان حکومت کے اہم ترین عہدے دار پاکستان کی جانب سے جاری فضائی حملوں کے بعد شدید خوف کے باعث خفیہ بنکروں میں چھپ گئے ہیں اور عوامی رابطے ختم کر دیے ہیں۔ اس صورتحال کا انکشاف افغانستان کی پشتو زبان کی نیوز ویب سائٹ زاویہ نے ایک رپورٹ میں کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی فضائی کارروائیوں کے بعد طالبان قیادت کھل کر منظرِ عام پر آنے سے گریز کر رہی ہے اور بیشتر سرکاری اہلکار جان بچانے کے لیے چھپ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کابل کے پانچویں ضلع کے رہائشیوں نے شکایت کی ہے کہ وہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اپنے مسائل کے حل کے لیے طالبان کے مقرر کردہ میئر سے ملاقات نہیں کر سکے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث حکام عوام سے ملنے سے گریز کر رہے ہیں اور اکثر اہلکار اپنے دفاتر میں بھی موجود نہیں ہوتے۔
کابل کے پانچویں ضلع میں واقع تمبر سکوائر کے رہائشیوں نے بتایا کہ وہ وزارت دفاع کے زیر انتظام ملٹری اکیڈمی اور گارڈ پوسٹوں کے خلاف شکایات لے کر طالبان میئر سے ملنا چاہتے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ وہاں تعینات اہلکار دکان داروں سے جبری طور پر کرایہ وصول کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے اس میں اضافہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق بار بار کی کوششوں کے باوجود انہیں کوئی ذمہ دار اہلکار دستیاب نہیں ہوا اور نہ ہی میئر سے ملاقات ممکن ہو سکی۔ زاویہ نیوز کے مطابق موجودہ کشیدہ صورتحال میں طالبان کے کئی سرکاری اہلکار یا تو روپوش ہو چکے ہیں یا عوامی سرگرمیوں سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان عہدے داروں کا ایک بڑا گروپ ملک کو موجودہ حالات میں چھوڑ کر عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہو گیا ہے۔ تاہم ان کا اصل مقصد پاک فضائیہ کی جانب سے ہونے والے فضائی حملوں سے بچنا ہے۔
اس سے قبل بھی یہ اطلاعات سامنے آ چکی ہیں کہ طالبان کی مرکزی قیادت پاکستان کے فضائی حملوں کے خوف سے خفیہ مقامات پر منتقل ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد بھی کھلے عام سامنے آنے کے بجائے ایک محفوظ مقام سے سوشل میڈیا پر بیانات جاری کر رہے ہیں۔ پاکستان فوجی آپریشن ’غضب للحق‘ کے آغاز کے بعد سے طالبان کی اعلیٰ قیادت شاذ و نادر ہی منظرِ عام پر آئی ہے۔ صرف سراج الدین حقانی اور امیر خان متقی ایک ایک مرتبہ عوامی سطح پر نظر آئے، جس کے بعد وہ دوبارہ منظر سے غائب ہو گئے۔ چند روز قبل امیر خان متقی کی چین کے سفیر سے ملاقات کی ایک تصویر سامنے آئی تھی اور مبصرین کے مطابق اس طرح کی سفارتی ملاقاتوں کے دوران انہیں نسبتاً محفوظ ماحول کا یقین ہوتا ہے۔
طالبان کے وزیر دفاع ملا یعقوب سمیت دیگر اہم رہنما تاحال عوامی سطح پر نظر نہیں آئے جبکہ طالبان کے سپریم لیڈر امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے بھی موجودہ صورتحال پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ طالبان حکومت افغان عوام کو پاکستان کے خلاف مظاہروں میں شرکت کے لیے متحرک کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ ڈیلی کابل نیوز کے مطابق گزشتہ روز کابل کی عیدگاہ مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد پاکستان کے خلاف اجتماع کے لیے لوگوں کو جمع ہونے کی اپیل کی گئی تھی، لیکن اس میں بمشکل چند سو افراد ہی شریک ہوئے اور ان میں بھی زیادہ تر طالبان کے حامی شامل تھے، جبکہ ازبک، تاجک اور ہزارہ برادری کے افراد اس اجتماع سے بڑی حد تک لاتعلق رہے۔
افغانستان کے مختلف صوبوں کے شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ طالبان اہلکار عام لوگوں کو پاکستان مخالف مظاہروں میں شرکت کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔ فاریاب، بدخشاں، غور اور کابل کے مقامی افراد کے مطابق نوجوانوں، دکانداروں حتیٰ کہ بھکاریوں تک کو ریلیوں میں شامل ہونے کے لیے کہا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں دکانیں زبردستی بند کروا دی گئیں اور تاجروں کو کاروبار چھوڑ کر احتجاجی ریلیوں میں شریک ہونے کا حکم دیا گیا۔
اماج نیوز کے مطابق کابل میں ہونے والی ریلی کو بھی عام شہریوں کی بھرپور حمایت حاصل نہ ہو سکی اور شرکاء کی تعداد محدود رہی۔ اس حوالے سے طالبان نے کابل کے مختلف علاقوں کے ذمہ داران کو ہدایت دی تھی کہ وہ چھ مارچ بروز جمعہ عیدگاہ مسجد کے قریب ہونے والے احتجاجی اجتماع کے لیے ہر ضلع سے تقریباً سو افراد کو ساتھ لائیں، تاہم اس کے باوجود توقع کے مطابق لوگ جمع نہیں کیے جا سکے۔
پاکستان کے خلاف عوامی ردعمل پیدا کرنے میں ناکامی کے بعد طالبان حکومت نے مذہبی پلیٹ فارم استعمال کرنے کی بھی کوشش کی۔ طالبان کی وزارت حج و مذہبی امور نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جمعہ کے خطبات کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا جس میں آئمہ مساجد کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے خطبوں میں رمضان المبارک کے آخری عشرے اور پاکستان کے خلاف دفاع کے موضوع پر گفتگو کریں۔ اس ہدایت نامے میں کہا گیا کہ اگر کوئی ملک حملہ کرے تو عوام سمیت ہر فرد کا اس کے خلاف کھڑا ہونا فرض ہے، تاہم عوام کو سڑکوں پر لانے کے یہ تمام ہتھکنڈے تاحال ناکامی سے دوچار دکھائی دیتے ہیں۔
اسرائیل،امریکہ اور ایران کی جنگ پاکستانیوں کو کیوں بھگتنا پڑگئی؟
ادھر تاجک، ازبک اور ہزارہ برادریوں کے بعض رہنماؤں نے اپنے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ طالبان کی جنگی پالیسیوں کا حصہ نہ بنیں۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بھی ان برادریوں سے تعلق رکھنے والوں کو طالبان حکومت سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ طالبان سرحدی علاقوں میں عام شہریوں کو لڑائی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے قبل نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی افغانستان سے پاکستان کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجے گئے تقریباً چار سو ازبک طالبان جنگجوؤں میں سے صرف ساٹھ واپس لوٹ سکے جبکہ باقی مارے گئے۔
