پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی کی اصل وجہ کیا ہے؟

ملک میں پے در پے ہونے والی شرپسندانہ کارروائیوں میں طالبان کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آنے اورافغان حکومت کی طرف سے ٹی ٹی پی کو نکیل ڈالنے میں ناکامی کے بعدپاکستان نے افغانستان کو مزید تعاون کی فراہمی سے صاف انکار کر دیا ہے۔ غیر قانونی افغان تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے فیصلے کے بعد پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔دوسری جانب روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغان حکومت کو بین الاقوامی فورمز پر مزید سہولیات فراہم کرنے سے انکار کے بعد افغان حکومت نے ایران کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت دیگر معاملات ایران کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ایک اہم رہنما نے افغانستان میں بڑھتی ہوئی قوم پرستی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے طالبان حکومت کیلئے زہر قاتل قرار دے دیا ہے۔پاکستان کی جانب سے افغان حکومت کو اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی فورمز پر مزید سہولیات فراہم کرنے سے انکار کے حوالے سے ’’امت‘‘ کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے 3 ماہ قبل ژوب میں ایک کارروائی کے دوارن افغان طالبان کے ایک کمانڈر کی ٹی ٹی پی کی جانب سے لڑتے ہوئے مارے جانے کے بعد افغان حکام سے کہا تھا کہ افغان حکومت پاکستان پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں اور ٹی ٹی پی کو بھی غیر مسلح کریں۔ تاہم وعدے کے باوجود افغان حکومت نے نہ تو ٹی ٹی پی کیخلاف کارروائی کی اور نہ افغان جنگجوئوں کی پاکستان میں کارروائیوں میں ملوث ہونے پر وضاحت دی۔
جبکہ پاکستان میں حالیہ دہشتگردانہ اور شرپسندانہ کارروائیوں کے دوران نیٹو اسلحے کا استعمال اور افغانستان سے شدت پسندوں کو ہدایات ملنے کی وجہ سے پاکستان نے بالآخر افغان حکومت سے تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس میں خفیہ معلومات کی فراہمی روکنا، اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر طالبان حکومت کی حمایت نہ کرنا، سہولیات فراہم نہ کرنے کے علاوہ عالمی فورمز پر ان کو مدعو کرنے کی کوششوں کو ترک کرنا شامل ہے۔ اس حوالے سے افغان وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ افغانستان پر پاکستان کے دبائو کا اثر اچھا نہیں رہے گا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعہ سے دیگر عناصر فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ تاہم اگر پاکستان کو شکایات ہیں تو اس پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول افغان حکومت کو باضابطہ طور پر تو کوئی مراسلہ وغیرہ نہیں آیا کہ پاکستان تعاون ختم کر رہا ہے۔ تاہم ذرائع ابلاغ سے انہیں معلوم ہوا ہے کہ پاکستان نے تعاون ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب کابل میں اہم ذرائع نے بتایا کہ افغان حکومت میں اہم عہدیدار اور طالبان کے امیر کے قریب سمجھے جانے والی شخصیت نے طالبان وزرا اور حکومتی اہلکاروں کو متنبہ کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تنازع پر افغان طالبان اور حکومت قوم پرستی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ جو افغان حکومت کیلیے زہر قاتل ہے۔ اس سے پاکستانی عوام میں طالبان کیلئے جو حمایت پائی جاتی ہے، وہ ختم ہو جائے گی اور افغانستان کو مستقبل میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔ انہوں نے طالبان رہنماؤں کو متنبہ کیا ہے کہ اس قوم پرستی سے زیادہ فائدہ سابق حکومت کے افراد اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سابق حکومت کے باہر بیٹھے کارندے سوشل میڈیا کے ذریعے قوم پرستی کو ہوا دے رہے ہیں۔ طالبان نے جو جہاد کیا ہے وہ ضائع ہو جائے گا اور طالبان وقتی تنازعے کی وجہ سے اپنے مقاصد سے دور ہو جائیں گے۔
افغان طالبان ذرائع کے مطابق جب تک پاکستان افغان حکومت کو باقاعدہ تسلیم نہیں کرتا ٹی ٹی پی کا مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔ کیونکہ طالبان ٹی ٹی پی کو ایک منصوبہ بندی کے تحت کچھ نہیں کہتے۔ تاکہ پاکستان افغان حکومت کو تسلیم کرے اور جس دن پاکستان نے افغان حکومت کو تسلیم کر لیا اس وقت طالبان حکومت، ٹی ٹی پی کا مسئلہ ختم کر دیں گے۔ذرائع کے مطابق کابل میں بعض افغان حکام بیان بازی سے خوش نہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھا جائے۔ تاہم اس وقت افغان طالبان چاہتے ہیں کہ بیان بازی کے ذریعے وہ افغانستان کے ان مسائل سے مقامی طور پر توجہ ہٹائیں جو ان کو درپیش ہیں۔ کیونکہ افغان طالبان پر تعلیمی اداروں میں خواتین کی پابندی سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بیرونی اور اندرونی دبائو کا سامنا ہے۔ تاہم دوسری طرف پاکستانی حکام نے ٹی ٹی پی کا ملکی سطح پر قلع قمع کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اور جلد ملک بھر میں ٹی ٹی پی اور اس کے سہولتکاروں کیخلاف گرینڈ آپریشن
پیپلز پارٹی اپنی ٹھنڈی گرم سیاست سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟
شروع ہونے والا ہے۔
