پاکستان اور قازقستان کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط

وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں قازقستان کے صدر قاسم جومارت کا شاندار استقبال کیا۔ وزیر اعظم ہاؤس آمد پر صدر قازقستان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے مہمان کو وفاقی کابینہ کے ارکان سے متعارف کروایا، جبکہ صدر قازقستان نے وزیراعظم کو اپنے وفد کے ارکان سے روشناس کرایا۔
اس کے بعد صدر قازقستان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور سفارتی وفود موجود تھے۔ تقریب کے بعد وزیراعظم اور صدر قازقستان کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط
ملاقات کے بعد پاکستان اور قازقستان کے درمیان تعاون کو بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ اس موقع پر وزیراعظم اور صدر قازقستان نے مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے، جسے دوطرفہ تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تقریب کے دوران 19 مختلف شعبوں سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کا تبادلہ کیا گیا۔ ان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں سے تعاون، کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں شراکت داری، قیدیوں کے تبادلے اور میری ٹائم سیکٹر میں تعاون شامل تھا۔
اسحاق ڈار کی قازقستان کے صدر سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ، کسٹمز، اور ریلوے شعبے میں تعاون کے معاہدے بھی طے پائے، جس کا مقصد تجارتی روابط اور نقل و حمل کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
دونوں ممالک نے ماحولیاتی تبدیلی، ورچوئل اثاثے، پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی کے شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا، جس سے مستقبل میں تکنیکی شراکت داری کو فروغ ملے گا۔
مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی تقریب میں وزیر دفاع خواجہ آصف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال بھی موجود تھے۔
