پاکستان سمیت اسلامی ممالک کا ایران سے ہمسائیہ ممالک پر حملے روکنے کا مطالبہ

پاکستان سمیت اسلامی ممالک نے ایران سے ہمسائہ ممالک پر حملے روکنے کا مطالبہ کردیا، اور کہا ہے کہ خلیجی ممالک کو نشانہ بنانا کسی صورت جائز نہیں۔

تفصیلات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہوا، جس میں خطے کی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں فیصل بن فرحان نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اپنے دفاع کے لیے فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے ایران کے جارحانہ رویے پر تشویش کا اظہار کیا اور مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

پاکستان کی نمائندگی نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کی اور دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان تمام ممالک پر زور دے گا کہ وہ حملے فوری طور پر بند کریں۔ اجلاس میں آذربائیجان، بحرین، شام، قطر، ترکی، متحدہ عرب امارات، کویت، اردن اور مصر کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہوئے۔

ٹرمپ نے اسرائیل کو ایرانی اور ایران کو قطر کی توانائی تنصیبات پر حملوں سے روک دیا

اجلاس کے مشاورتی اعلامیے میں ایران کے حملوں کی پُر زور مذمت کی گئی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران خلیجی ممالک کے سول انفراسٹرکچر، ہوائی اڈے، تیل کی تنصیبات، سفارتخانوں اور عوامی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے، جو کسی صورت جائز نہیں۔ اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے مطابق خلیجی ریاستوں کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

اعلامیے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور ہمسایہ ممالک کے احترام کو یقینی بنائے اور فوری طور پر حملے روک دے۔ اس کے علاوہ ایران سے کہا گیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنائے اور عالمی تجارت میں خلل نہ ڈالے تاکہ خطے کے امن اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔

Back to top button