پاکستان کا ایران سے نئی سرحدی راہداری کھولنے کا اعلان

حکومت پاکستان نےایران کےتعاون سےپنجگور میں پاکستان اور ایران کی سرحد پر ایک نئی سرحدی راہداری کھولنے کا اعلان کردیا۔
جس سےدونوں ممالک کے درمیان قانونی تجارتی سرگرمیوں کو آسان بنانے،اشیا کی اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی اور دونوں ممالک کی سرحد کےساتھ مقیم لوگوں کو روزگار اور کاروبار کےمواقع فراہم کیےجاسکیں گے۔
کوہک چیدگی کےعلاقےمیں نئے تجارتی راستے سے بلوچستان کےعلاقے پنجگورمیں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
ایف بی آر نےپنجگور کے علاقے کوہک چیدگی میں پاکستان اور ایران کےدرمیان چوتھا باضابطہ سرحدی کراسنگ پوائنٹ کھولنےکا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔
ٹرانزٹ اوربارڈر ٹریڈ کےسیکریٹری زبیر شاہ کے دستخط شدہ ایک خط میں گوادر کےکلکٹریٹ آف کسٹمز کو پنجگور بارڈر کراسنگ پوائنٹ کےعلاقے کوہک چیدگی میں ضروری اقدامات کرنےاور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور محکموں کے ساتھ رابطہ کرنےکی ہدایت کی گئی ہے تاکہ علاقے میں مطلوبہ بنیادی ڈھانچےکی ترقی کو فوری طورپر یقینی بنایا جا سکے۔
ایف بی آر کےخط میں کہا گیا ہےکہ اس حوالےسے پیش رفت رپورٹ بھی پیش کی جائے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے قانونی تجارتی سرگرمیوں کی سہولت کےلیےکوہک چیدگی میں پاک۔ایران سرحد پر نئی سرحدی کراسنگ کھولنے کےاقدام کا بلوچستان کی تاجر برادری نےخیر مقدم کیا ہے۔
کوئٹہ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ایوب میرانی، سینئرنائب صدر حاجی اختر کاکڑ اور چیمبر کے دیگر رہنماؤں نےنئی بارڈر کراسنگ کا خیر مقدم کیا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ اس کراسنگ پوائنٹ کا قیام بلوچستان کے تاجروں کا دیرینہ مطالبہ تھا اور تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیےاس بارڈر کراسنگ کو کھولنےکے لیے مختلف فورمز پر کوششیں کی گئیں۔
پاکستان کے دشمن بانی پی ٹی آئی کے ذریعے پاکستان کیخلاف سازش کررہے ہیں: رانا تنویر
وفاقی حکومت کی جانب سےاس نئے تجارتی روٹ کے افتتاح کےنوٹیفکیشن کےاجراکے بعد اب دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ تجارت شروع ہوجائےگی جس سےمقامی لوگوں کو روزگارکےمواقع میسر آئیں گے اورکاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملےگا۔
نئی بارڈر کراسنگ کھولنے سے قانونی درآمد اور برآمدی کاروبار سےوابستہ تاجروں کو سہولت ملے گی اور دونوں ممالک کےدرمیان سامان کی اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
دسمبرمیں پاکستان اور ایران نے تجارت اور عوام سے عوام کے تبادلے کوبڑھانے کے لیے گبد۔رمدان بارڈر کراسنگ کا افتتاح کیا تھا۔
ایران کےجنوب مشرقی صوبے سیستان میں رمدان اور پاکستان کےصوبہ بلوچستان کے گبد کےدرمیان سرحدی کراسنگ پوائنٹ ایرانی بندرگاہ چابہار سےتقریباً 120 کلومیٹر اور گوادر بندرگاہ سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس موقع پردفتر خارجہ نے وضاحت کی تھی کہ اس گبد۔رمدان اور دیگرمجوزہ سرحدی کراسنگ پوائنٹس کا مقصد ’عوام سے عوام کےرابطوں‘ کو بڑھانا اوردونوں ممالک کےدرمیان سفر اور تجارت کو آسان بنانا ہے۔
دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ ’گبد۔رمدان کراسنگ پوائنٹ کو کھولنے پرپاکستان اور ایران کے درمیان مختلف سطحوں پر بات چیت ہوئی ہے۔
