پاک فوج کا افغانستان کے 12 کلومیٹر سرحدی علاقے پر قبضہ

پاک فضائیہ کی جانب سے افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر جاری بمباری کے دوران پاک فوج نے افغان سرحدی پٹی میں تقریباً 12 کلومیٹر اندر تک باڑ لگا کر ایک علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ علاقہ تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان کی جانب سے پاکستان میں داخلے اور حملوں کے لیے استعمال ہوتا تھا، اسی لیے اس پر کنٹرول کو سکیورٹی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ علاقہ ڈیورینڈ لائن پر واقع افغان صوبے پکتیکا میں شامل ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ افغان طالبان حکومت کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقے مکمل طور پر ان کی سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں اور پاکستان کی جانب سے کسی بھی پیش قدمی یا علاقے پر قبضے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ ادھر ٹوئٹر پر پاکستانی اکاؤنٹس سے ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس کا عنوان ’پاکستان کا نقشہ پھیل رہا ہے‘ رکھا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں سرحدی باڑ کی تصاویر دکھاتے ہوئے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی فورسز نے باڑ لگا کر افغان طالبان سے چھینی گئی زمین پر مستقل قبضہ کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو ڈیورینڈ لائن کہا جاتا ہے، جسے ماضی میں افغان حکومتوں نے باضابطہ سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا، تاہم اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی ادارے اسے دونوں ممالک کے درمیان سرحد مانتے ہیں۔ بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق جس افغان علاقے پر پاکستانی فوج کے قبضے کی افواہیں زیر گردش ہیں، وہ پکتیکا کے جنوب مغربی حصے میں پاکستانی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر، خصوصاً گوگل ارتھ کے تجزیے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ چار برسوں سے اس علاقے میں سرحدی باڑ موجود ہے اور پاکستان مسلسل اپنی سرحد کے ساتھ باڑ لگانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ کے مطابق زیر بحث علاقہ تقریباً 32 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے جسے باڑ لگا کر افغانستان کے باقی علاقے سے الگ کر دیا گیا ہے۔
اگر اس علاقے کی جغرافیائی ساخت کو سمجھا جائے تو یہ خطہ ایک بڑے انگریزی حرف ’ایل‘ (L) کی شکل اختیار کرتا ہے، جس کے اوپری اور نچلے حصے کو لوہے کی باڑ کے ذریعے افغانستان سے جدا کیا گیا ہے۔ عمومی طور پر پاکستان کی سرحدی باڑ کے مشرقی حصے کو پاکستان اور مغربی حصے کو افغانستان تصور کیا جاتا ہے، جس کے مطابق اس ’ایل‘ نما علاقے کو عملی طور پر پاکستان کی حدود میں شامل کیا گیا دکھائی دیتا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر میں واضح فرق بھی سامنے آیا ہے۔ ایک تصویر جس کی تاریخ 10 مارچ 2026 بتائی جاتی ہے، اس میں باڑ مکمل نظر نہیں آتی، جبکہ 13 مارچ کی تصویر میں یہی باڑ واضح طور پر مکمل دکھائی دیتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چند دنوں کے اندر اس علاقے میں باڑ کی تنصیب مکمل کی گئی۔ اس نئی باڑ کے ذریعے جو علاقہ پاکستان کی سمت میں شامل کیا گیا، اس کی لمبائی کم از کم 12 کلومیٹر ہے۔ اسی سرحدی خطے میں ایک اور نئی باڑ بھی تعمیر کی گئی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دو مختلف مقامات پر افغانستان کی سرزمین کے اندر کئی کلومیٹر تک باڑ لگائی گئی ہے۔ یہ نئی باڑ اسی ’ایل‘ شکل کے دہانے پر قائم کی گئی ہے اور بعض مقامات پر یہ حصار افغانستان کے اندر تقریباً ساڑھے 13 کلومیٹر تک پھیلتا دکھائی دیتا ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے افغان طالبان حکومت کی وزارت دفاع نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے، جس میں طالبان افواج کے نائب سربراہ مالی خان صدیق پکتیکا کے ضلع تروی میں موجودگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ اس معاملے کو میڈیا پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ افغان فورسز ہر مقام پر موجود ہیں اور اگر بین الاقوامی میڈیا چاہے تو آ کر خود صورتحال کا جائزہ لے سکتا ہے۔
یوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی صورتحال ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ایک جانب زمینی حقائق اور سیٹلائٹ شواہد مختلف زاویے پیش کر رہے ہیں، تو دوسری جانب سرکاری مؤقف اس کی تردید کر رہا ہے، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
