ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی،تحریک انصاف

چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹرگوہرکاکہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی،مگر ہم اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیں گے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا اور اسد قیصر کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے کہاکہ پارٹی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پالیسی اختیار نہیں کرے گی، تاہم عوام کو پارٹی قیادت کے خلاف لگائے جانے والے الزامات اور ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات سے آگاہ کرنا لازمی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی غیر معمولی پریس کانفرنس کا مقصد عوام کو حقائق سے روشناس کرانا ہے۔ ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ عوام کو بتانا بھی ضروری ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہاکہ 180 سیٹوں کے ساتھ 91 سیٹوں پر بیٹھے، ہمارے گھر کی سیٹ چلی گئی، بانی چئیرمین نے ہمیشہ کہاکہ ملک بھی ہمارا اور فوج بھی ہماری، جنگ کے وقت میں ہم فوج کے ساتھ کھڑے رہے، ہم نے امید کی کہ حالات بہتر ہوں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ کل کی پریس کانفرنس کے دوران استعمال ہونے والے کچھ الفاظ مناسب نہیں تھے۔انہوں نے زور دیا کہ ایک دوسرے کو جگہ دینا ہوگی، عمران خان کی ملاقاتیں ہونی چاہییں، اور مقدمات میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔

سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں کئی تاریک لمحے آئے ہیں اور ملک کو ہمیشہ جبر میں دھکیلا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر کہا جاتا رہا کہ پاکستان کو سخت ہاتھ کی ضرورت ہے تاکہ ملک ترقی کرے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا؟ کراچی میں بوری بند لاشیں ملیں، اس خطے میں خون، بارود اور اسلحہ تو ہے لیکن فلاح نہیں ہے۔ ملک میں اشرافیہ ہمیشہ امیر تر ہوئی، اور عوام کی حالت بہتر نہیں ہوئی۔

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے پارٹی کو مخصوص نشستیں دی تھیں، لیکن بعد میں اس کو ضلعی عدالت میں تبدیل کر دیا گیا۔

گوہر علی خان نے کہاکہ پارٹی عمران خان کی رہائی کے لیے بیانیہ لے کر جا رہی تھی، لیکن اب بات یہاں تک آگئی کہ ہم کہہ رہے ہیں صرف ملاقات ہونے دیں۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ افغانستان، ایران اور بھارت کے ساتھ موجود تجارتی اور سیاسی مسائل کا حل ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک عوام کی آواز اسمبلی میں نہیں گونجے گی، ملک میں فلاح نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کل کی پریس کانفرنس کا جواب دینے کے لیے ہم نہیں بیٹھے، ہم اسے جواب نہیں دے رہے۔

 

Back to top button