پاک فوج داعش اور بی ایل اے کے آمنے سامنے آنے کا فائدہ اٹھانے لگی

صوبہ بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی اور داعش خراسان کے آمنے سامنے آنے کا فائدہ بظاہر پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو ہوا ہے جو دہشت گردی میں ملوث ان دونوں تنظیموں کے خلاف آپریشن کر رہی ہیں۔ آپسی محاذ آرائی اور کشیدگی کے بعد دونوں دہشتگرد تنظیموں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں ٹھکنا یقینی ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ مارچ 2025میں داعش کے بیرون ممالک حملوں کے ذمہ دار اور ایبی گیٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ محمد شریف اللہ اور داعش خراسان کے 48 رکنی سیل کی گرفتاری اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اس گروہ کا اثر بلوچستان میں مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں داعش اور بی ایل اے کا ٹکراؤ سکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج کیلئے ایک اسٹریٹیجک فتح بن سکتا ہے۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے خلاف برسرپیکار یہ دہشتگرد تنظیمیں آپس میں کیوں لڑنے لگیں؟ تجزیہ کاروں کے مطابق اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد داعش خراسان کو عملی اور نظریاتی دونوں سطحوں پر شدید دھچکا لگا۔ طالبان نے داعش خراسان کے کئی اہم کمانڈرز اور رہنماؤں کو گرفتار یا مار دیا۔ان حالات نے داعش خراسان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی سرگرمیاں اور جنگجو سرحد پار پاکستان منتقل کر دے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان میں داعش خراسان کا خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ اور بلوچستان کے ضلع مستونگ میں مضبوط نیٹ ورک موجود ہے۔

تجزیہ کاروں کے بقول بلوچستان داعش خراسان کے لیے دو وجوہات کی بنیاد پر نہایت اہم ہے۔ پہلی وجہ یہ کہ بلوچستان میں ایران مخالف انتہا پسند گروہ جیسا کہ لشکر جھنگوی اور جیش العدل موجود ہے۔ماضی میں داعش خراسان نے انھی گروہوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے زندہ رہنے اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا راستہ نکالا تھا۔دوسری وجہ یہ ہے کہ بلوچستان جنوبی اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے، جو اسے داعش خراسان کے لیے ایک اہم سٹرٹیجک، راہداری اور لاجسٹک مرکز بناتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ نظریاتی اعتبار سے داعش خراسان اور بلوچ علیحدگی پسند ایک دوسرے کے مخالف کیمپوں میں ہیں لیکن دونوں نے تکنیکی حکمت عملی کے تحت طویل عرصے تک ایک دوسرے کے خلاف محاذ نہیں کھولا تھا۔ دونوں دہشتگرد گروپوں کے مابین لشکر جھنگوی اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی طرز پر عدم جارحیت کا معاہدہ موجود تھا

اطلاعات کے مطابق بی ایل اے کے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں داعش خراسان کے جنگجوؤں کے مستونگ میں بے رحمانہ قتل سے قبل دونوں گروہ اپنے خفیہ معاہدے کے بارے میں خاموش تھے اور کسی زبانی یا جسمانی تصادم سے گریز کرتے رہے۔ تاہم اب وہ کھل کر سامنے آ چکے ہیں دفاعی ماہرین کے مطابق بی ایل اے اور داعش خراسان دونوں کے لیے ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور بقائے باہمی قائم رکھنے میں فائدہ تھا تاکہ پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انسداد دہشت گردی کا موقع نہ ملے۔ تاہم داعش خراسان نے جب بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تو اس کے ساتھ ساتھ اس نے علاقائی قوم پرستی، نسلی سیاست اور جمہوریت پر نظریاتی تنقید بھی کی۔داعش خراسان نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی زیر قیادت بلوچ یکجہتی کمیٹی اور منظور پشتین کی قیادت میں پشتون تحفظ موومنٹ پر بھی منافقت اور موقع پرستی کے الزامات لگائے۔

آمریت اور ملائیت سے ٹکرا جانے والے پروفیسر وارث میر کی کہانی

دفاعی ماہرین کے مطابق داعش خراسان کا بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف اعلان جنگ بلوچستان کے سکیورٹی منظرنامے پر سنگین اثرات ڈال سکتا ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ داعش خراسان کے لیے بلوچستان میں بی ایل اے سے لڑنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس کے پاس نہ وہ قوت ہے اور نہ ہی اتنے وسائل موجود ہیں۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ داعش خراسان نے افغانستان میں طالبان جیسے طاقتور گروہ کے خلاف خودکش حملوں کے ذریعے کامیابی حاصل کی ہے، لہٰذا وہ یہی طریقہ بلوچستان میں بھی اپنا سکتی ہے۔تاہم بی ایل اے کی جوابی کارروائی بلوچستان میں پہلے سے کمزور پڑی داعش خراسان کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق مارچ میں دو بڑے دھچکوں یعنی محمد شریف اللہ اور 48 رکنی سیل کی گرفتاری اور بی ایل اے کے حملے کے بعد یہ گروہ تاحال سنبھل نہیں سکا، اس لیے فی الحال داعش کا بی ایل اے کے ساتھ باقاعدہ محاذ آرائی کا امکان کم ہے۔اگر کسی بھی وقت داعش خراسان نے بی ایل اے پر حملہ کیا اور دونوں گروہوں کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی، تو یہ بلوچستان میں پرتشدد واقعات کی سطح کو مزید بڑھا دے گا، جہاں پہلے ہی سکیورٹی صورت حال غیر مستحکم ہے۔ اسی دوران اگر بی ایل اے اور داعش خراسان کے درمیان باہمی جھڑپیں شروع ہو گئیں تو یہ قلیل المدتی طور پر پاکستانی سکیورٹی اداروں کے لیے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو آسان بنا دیں گی۔

Back to top button