پاکستان نے افغانستان میں فضائی حملوں کا الزام مسترد کردیا

پاکستان نے افغان طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے جس میں انہوں الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے نے گزشتہ شب اس کے تین صوبوں میں فضائی کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 10 شہری مارے گئے۔
پاکستان نے افغانستان کی جانب سے لگائے گئے مبینہ فضائی حملوں کے دعوؤں کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں سرحد پار کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان جب بھی کوئی آپریشن کرتا ہے تو اسے سرکاری سطح پر تسلیم بھی کرتا ہے، لہٰذا اس نوعیت کے الزامات بےبنیاد اور حقیقت سے دور ہیں۔
ذرائع کے مطابق جن مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، وہ زیادہ تر افغانستان کے داخلی تنازعات، مقامی گروہوں کی جھڑپوں، یا بعض مواقع پر مبینہ طور پر بھارتی ایجنٹوں کی جانب سے رچائے گئے واقعات کا نتیجہ ہوسکتے ہیں۔ حکام کے بقول افغانستان میں خوارج کے اندر بھارتی مداخلت کوئی نئی بات نہیں۔
ذرائع نےکہا کہ کابل انتظامیہ اکثر اپنے اندرونی مسائل کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیتی ہے اور اسی روایت کو ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر بھی بڑی حد تک پرانی، سیاق و سباق سے ہٹی ہوئی یا ایڈیٹ شدہ ہیں۔
حکام کا کہنا ہےکہ افغانستان اس وقت شدید دباؤ میں ہے اور پاکستان کی جانب سے ممکنہ ردعمل سے بھی خائف ہے، خصوصاً اسلام آباد، وانا کالج اور پشاور حملوں کے پس منظر میں۔ اسی وجہ سے افغان حکام پیشگی الزامات لگاکر عالمی توجہ کا رخ موڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہےکہ اگر پاکستان کوئی کارروائی کرے گا تو اس کے آثار دنیا خود دیکھ لےگی،جیسا کہ اکتوبر میں "کابل کے آسمان کی روشنی” پوری دنیا نے ملاحظہ کی تھی۔
افغانستان کا پاکستان پر فضائی حملوں کا الزام: 10 شہریوں کی اموات کا دعویٰ
حکام کا کہنا ہے کہ حسب روایت بھارت نے بھی افغانستان کے بیانئے کو فوراً آگے بڑھانا شروع کردیا ہے اور سوشل میڈیا پر اس بیانیے کو پھیلا کر "گمراہ کن پروپیگنڈا” کیا جارہا ہے۔
