خبردارٖ!ٹیکس نادہندگان کی موبائل سمز مکمل بند کرنے کا فیصلہ

ٹیکس اکٹھا کرنے والے وفاقی ادارے ایف بی آر نے 5 لاکھ کے قریب ٹیکس نادہندگان کی موبائل سمز بند کرنے کا اعلان کیا ہے، ایسے افراد کو قانون کے دائرے میں لایا جائیگا جوکہ انکم ٹیکس ادا نہیں کر رہے ہیں، ٹیکس حکام کے مطابق ’اس عمل کا آغاز گزشتہ برس نومبر میں اس وقت شروع کیا گیا تھا جب 18 لاکھ ٹیکس نادہندگان کو حتمی نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔پاکستان میں 2022 میں ایک قانون کے ذریعے ایف بی آر حکام کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ نہ صرف کسی بھی ٹیکس نادہندہ کا موبائل یا سِم بند کر سکتے ہیں بلکہ اُن کے بجلی اور گیس کے کنکشن کو بھی منقطع کر سکتے ہیں۔ایف بی آر لاہور کے ریجنل آفس کے ڈپٹی کمشنر علی حسن نے ’’اُردو نیوز‘‘ کو بتایا کہ ’یہ ڈیٹا گذشتہ ایک سال سے اکٹھا کیا جا رہا تھا کیونکہ ایف بی آر کے پاس کئی ذرائع سے معلومات پہنچ رہی ہوتی ہیں۔ان ذرائع میں بینک سرِفہرست ہیں، تو ایسے افراد کو سنگل آؤٹ کیا گیا ہے جو ٹیکس نیٹ میں ہونے کے باوجود اپنے ریٹرنز جمع نہیں کروا رہے، ایسے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان میں زیادہ تر چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر ہیں، ایف بی آر لاہور کے ریجنل آفس کے ڈپٹی کمشنر علی حسن کہتے ہیں کہ ’یہ ڈیٹا ملک کے طول و عرض سے اکٹھا کیا گیا ہے، ایسے افراد کی تعداد تقریباً 18 لاکھ بنتی ہے جو ٹیکس جمع نہیں کروا رہے۔حکام ایف بی آر کے مطابق ’انکم ٹیکس قانون کے آرٹیکل 114 بی کے تحت ایسے تمام افراد کو قانونی نوٹس کے ذریعے آگاہ کر دیا گیا ہے کہ اُن کے موبائل فون سمز اور بجلی کے کنکشن کاٹے جائیں گے۔ ’’اُردو نیوز‘‘ کو دستیاب معلومات کے مطابق موبائل سمز بند کرنے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ مل کر میکنزم تیار کیا گیا ہے۔ اس میں ابتدائی طور پر پانچ لاکھ افراد کی سِمز بند کی جائیں گی جس کا آغاز آئندہ ہفتے سے ہو جائے گا۔ یہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ ٹیکس ریٹرنز جمع نہ کروانے والوں کے موبائل فونز کی سِمز بند کی جائیں گی۔ ڈپٹی کمشنر علی حسن کہتے ہیں کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ ٹیکس نادہندگان کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے۔ کئی برسوں سے اس پر کام ہو رہا تھا اب تو قانون بھی بن چکا ہے، ’رُولز بھی مکمل ہیں جن میں اس بات خیال رکھا گیا ہے کہ اس قانون کا اطلاق مساوی طریقے سے ہو۔ پہلے مرحلے میں موبائل فونز کی سمز بند کرنے کے ساتھ بجلی اور گیس کے کنکشن بھی منقطع کیے جائیں گے۔ایف بی آر کے رُولز کے مطابق جو کاروبار لیز پر ہو رہے ہیں اُن کے بجلی کے کنکشن نہیں کاٹے جائیں گے۔علی حسن کے مطابق ’چونکہ ان ٹیکس نادہندگان میں زیادہ تر دُکاندار ہیں اور اُن کے پاس کرائے کی دُکانیں ہیں اور بجلی کے میٹر کاروبار کرنے والوں کے نام پر نہیں ہیں اس لیے اس بات کا بھی خاص خیال رکھا جائے گا۔

Back to top button