پاکستان نے انڈیا کو کاؤنٹر کرنے کیلئے چینی ہیلی کاپٹرز خرید لیے

حالیہ پاک بھارت جنگ میں انڈیا کو شکست دینے کے بعد اپنی جنگی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے کی کوششں میں مصروف پاکستان نے اب 39 عدد چینی ساختہ زیڈ 10 ایم ای جنگی ہیلی کاپٹرز پاکستان آرمی ایوی ایشن میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چین کے زیڈ 10 ایم ای ہیلی کاپٹر کی اہمیت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا موازنہ انڈیا کے ’امریکی اپاچی‘ ہیلی کاپٹر سے کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل امریکہ سے تین اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹرز کی پہلی کھیپ دہلی کے ہنڈن ایئر بیس پر پہنچی۔ یہ انڈیا کی جانب سے امریکی ساختہ جنگی ہیلی کاپٹرز کی پہلی خریداری ہے۔ لہذا پاکستان نے اس کا توڑ کرنے کے لیے چینی ہیلی کاپٹرز لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے پاک بھارت جنگ کے دوران بھارت کے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کو گرانے کے لیے پاکستان ایئر فورس نے چینی ساختہ تھنڈر جہازوں کا استعمال کیا تھا۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر دفاع سے وابستہ فورمز پر ایک چینی ساختہ Z-10ME ہیلی کاپٹر کی تصویر گردش کرتی دکھائی دی جو پاکستان میں کسی فائرنگ رینج پر کھڑا نظر آ رہا تھا۔ کچھ لوگوں نے اسے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنی تصویر قرار دیا جبکہ دیگر کا ماننا تھا کہ شاید یہ Z-10 ہیلی کاپٹر کا کوئی پرانا ورژن ہے جو ٹیسٹنگ کے لیے پاکستان آیا ہے۔
انھی قیاس آرائیوں کے بیچ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے چینی ساختہ زیڈ ٹین ایم ای اٹیک ہیلی کاپٹروں کو پاکستان آرمی ایوی ایشن میں شامل کیے جانے کا باضابطہ اعلان کیا۔
دفاری ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ سٹیٹ آف دی آرٹ ہیلی کاپٹر، ہر طرح کے موسم میں دن اور رات میں کسی بھی وقت حملہ کرتے ہوئےدرست نشانہ لگانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید ریڈار سسٹمز اور جدید ترین الیکٹرانک وارفیئر سسٹم سے لیس زیڈ 10 ایم ای ہیلی کاپٹر فوج کی فضائی اور زمینی خطرات کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔ اس ہیلی کاپٹر کے پاکستان آرمی ایوی ایشن میں شامل ہونے کی تقریب کی صدارت فیلڈ مارشل اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کی۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ چینی ساختہ زیڈ 10 ایم ای اٹیک ہیلی کاپٹر کی اہم خصوصیات کیا ہیں اور یہ کن ہتھیاروں سے لیس ہے۔ ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) مزمل جبران کے مطابق زیڈ 10 ہیلی کاپٹر کی تیاری 1994 میں تب شروع ہوئی جب چین کو ایک جدید جنگی ہیلی کاپٹر کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یہ چین کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ اٹیک ہیلی کاپٹر ہے۔ اس ہیلی کاپٹر کو چانگی ایئرکرافٹ انڈسٹریز کارپوریشن نے تیار کیا ہے۔ زیڈ ٹین نے 2003 میں پہلی آزمائشی پرواز کی۔ اگرچہ یہ 2009 سے چینی فوج کے زیر استعمال ہے تاہم اسے 2012 میں چینی فوج میں باضابطہ طور پر شامل کیا گیا۔
معروف دفاعی میگزین ایشئین ملٹری ریویو کے مطابق چینی ہیلی کاپٹر جدید میدانِ جنگ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ یہ قریبی فضائی مدد، اینٹی ٹینک کارروائیوں اور محدود ایئر ٹو ایئر لڑائی کی صلاحیتوں کا مؤثر امتزاج پیش کرتا ہے، جو اسے انڈیا کے اپاچی ہیلی کاپٹر کے ہم پلہ کلاس میں شامل کرتا ہے۔ گذشتہ برسوں میں اس کے مختلف ورژنز میں بہتری لائی گئی ہے جن میں جدید ملی میٹر ویو فائر کنٹرول ریڈار، طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت اور زیادہ میزائلوں کا بوجھ اٹھانے کی خاصیت شامل ہے۔ عام طور پر بیشتر ریڈار دھند والے موسم میں مؤثر کارکردگی نہیں دکھاتے لیکن زیڈ 10 ایم ای میں نصب ریڈار دھند میں بھی شاندار پرفارمنس دیتا ہے۔ اس ہیلی کاپٹر کا موبائل گن سسٹم ایسا یے کہ پائلٹ جس سمت دیکھے گا، گنز خود بخود اسی سمت شعلے برسانا شروع کر دیں گی۔
اس کے جدید ترین ماڈل میں ایک نیا طاقتور انجن نصب کیا گیا ہے جو پرواز کی کارکردگی اور رینج دونوں میں اضافہ کرتا ہے۔
کارکردگی کے لحاظ سے زیڈ 10 ایم ای کی زیادہ سے زیادہ رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جب کہ اس کی مؤثر رینج، وزن اور اضافی فیول کے مطابق 800 سے 1120 کلومیٹر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس ہیلی کاپٹر کا خالی وزن تقریباً 5100 کلوگرام ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ ٹیک آف وزن 7200 کلوگرام تک پہنچ سکتا ہے جو اسے لائن آف کنٹرول کے ساتھ طویل پرواز یا گہرائی میں حملوں کے لیے قابل اعتماد بناتا ہے۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہےکہ پاکستانی ماہرین نے چینی ہیلی کاپٹر میں اپاچی طرز کا ریڈار، ایئر ٹو ایئر اور ایئر ٹو سرفیس میزائلز اور دیگر جدید ہتھیاروں کے سسٹمز فٹ کروائے ہیں تاکہ اسے اپنی ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ ان کے مطابق پاکستان نے چین سے 30 ہیلی کاپٹرز خریدے ہیں جو کئی کھیپوں میں پاکستان پہنچیں گے۔
