پاکستان کا شام اور لبنان سے اسرائیل کے انخلا اور فلسطین پر قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ میں پاکستان کےاعلیٰ سفارت کار منیر اکرم نے شام اورلبنان کی سرزمین سےاسرائیل کےانخلا، لبنان اورشام کی خودمختاری کے احترام اور فلسطین کی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کےخاتمےکا مطالبہ کردیا۔
وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم نے سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پربریفنگ دی۔
انہوں نےگولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے قبضے کی مذمت کرتے ہوئےشام کی علاقائی سالمیت کی بحالی کے ساتھ ساتھ ایک جامع حکومتی ڈھانچے کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔
رواں ماہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے اپنی 2 سالہ مدت کا آغاز کرنے کے بعد پاکستان نے اقوام متحدہ کےچارٹر کو برقراررکھنے اور عالمی تنازعات کے منصفانہ حل کو فروغ دینے کا عہد کیا ہے۔
سلامتی کونسل کی یہ بریفنگ شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمےکےبعد سامنے آئی ہے، جب مذہبی سیاسی گروپ ہیئت تحریر الشام ایچ ٹی ایس کی سربراہی میں حزب اختلاف کی فورسز کی جانب سےتیز کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔
پاکستانی سفیرنےسلامتی کونسل میں مطالبہ کیا کہ شام کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کو بحال کیا جانا چاہیے، شام کی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا قبضہ غیر قانونی اور کالعدم ہے،جیسا کہ سلامتی کونسل نے اعلان کیا ہے، سلامتی کونسل کو اسرائیل کےمکمل انخلا کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
منیر اکرم نےشام کو برادر ملک قرار دیتے ہوئےعبوری انتظامیہ کےمثبت بیانات کا خیر مقدم کیا لیکن ان کے عملی نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔
مراکش کشتی حادثہ : 20 افراد فیصل آباد، لاہور، کراچی سے سینیگال گئے، 8 افراد جاں بحق
انہوں نےکہا کہ شام اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر ہے، حالیہ سیاسی پیشرفت شام میں معمول، استحکام اور امن کی بحالی کا موقع فراہم کرتی ہے،اس کے باوجود اس کا انحصار ایک نئے حکومتی ڈھانچےکی طرف پرامن منتقلی کو یقینی بنانے پر ہوگا، جو جامع اورمستحکم ہو اور شام کے اتحاد اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنائے۔
انہوں نےغیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی اور القاعدہ اور داعش کےدوبارہ ابھرنے کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے شام سے پیدا ہونےوالی ’دہشت گردی کے خطرے‘ کے خلاف الرٹ رہنے پر بھی زور دیا۔
القاعدہ اورداعش کا احیا
منیراکرم نےکہا کہ کچھ گروہوں کا پس منظر، اور غیر ملکی جنگجوؤں کی مبینہ موجودگی احتیاط کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
شام کےسنگین انسانی بحران سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئےپاکستانی سفارتکار نے کہا کہ 70 فیصد سے زائد آبادی کو امداد کی ضرورت ہے اور حالیہ ہفتوں میں دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
انہوں نےاقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین رسپانس پلان کی مکمل مالی اعانت اور ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں سمیت شامی پناہ گزینوں کی محفوظ واپسی کےلیے مدد کا مطالبہ کیا۔
انہوں نےشام کی تعمیر نو میں بین الاقوامی مدد کی اپیل کرتے ہوئے اداروں کی تعمیر نو اور ملک کو مستحکم کرنے کے لئے نئی انتظامیہ کےساتھ تعاون پر زور دیا۔
منیر اکرم نےکہا کہ شام کو درپیش چیلنجوں کے تمام پہلوؤں پر مؤثر کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ خاص طور پر سلامتی کونسل اورسیکرٹری جنرل کا کردار ناگزیر ہوگا۔
دریں اثنا، پاکستانی سفیرمنیراکرم نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان معاہدےکا خیرمقدم کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ جنوبی لبنان سےانخلا کے لیے 60 روزہ ٹائم لائن کا احترام کرے، تاکہ خطےمیں امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نےامید ظاہر کی کہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ بندی کا معاہدہ ایک جامع حل کی راہ ہموار کرے گا،جس میں ایک خودمختاراور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام بھی شامل ہوگا۔
