پاک چین سی پیک پراجیکٹ نواز شریف نے شروع کیا یا صدر زرداری نے؟

پاکستان اور چین کے مابین جاری اربوں ڈالرز کے سی پیک پراجیکٹ کا کریڈٹ تو کئی سیاسی رہنما لینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن گذشتہ کئی سالوں کے دوران اس میں آنے والے تعطل کی ذمہ داری اٹھانے کو کوئی بھی تیار نہیں۔ اب وزیراعظم شہباز شریف نے یہ دعوی کر دیا ہے کہ سی پروجیکٹ ان کی جماعت نے تب شروع کیا تھا جب نواز شریف وزیراعظم تھے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی والے سابق صدر آصف علی زرداری کو سی پیک پراجیکٹ کا خالق سمجھتے ہیں؟ آئیے جانتے ہیں کہ اصل حقیقت کیا ہے؟
وزیر اعظم شہباز شریف نے گوادر ہوائی اڈے سے پروازوں کا سلسلہ شروع ہونے پر کہا ہے کہ ’اللہ کے فضل و کرم سے سی پیک کی شروعات میاں نواز شریف کے دور سے ہوئی اور اس کے اہم سنگ میل بھی ان کی قیادت میں عبور ہو رہے ہیں۔‘ لیکن سندھ حکومت کے ترجمان اور صوبائی وزیر شرجیل میمن نے وزیراعظم شہباز شریف کے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک پراجیکٹ صدر آصف زرداری کی دور صدارت میں شروع ہوا جب بھی پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ دراصل چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی منصوبوں کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ تاہم گذشتہ دو دہائیوں کے دوران اربوں ڈالر کے جس منصوبے کی گونج سب سے نمایاں رہی وہ چین پاکستان اقتصادی راہدری کا منصوبہ ہے۔
گذشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومت رہی ہے اور وہ اس منصوبے کا کریڈٹ لینے کی خواہاں رہتی ہیں۔ سی پیک منصوبہ کب شروع ہوا اور اسے کس نے شروع کیا؟ معروف اردو ویب سائٹ انڈپینڈںٹ اردو نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے۔ سب سے پہلے 2017 میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی جماعت تاریخ میں سی پیک کے اربوں ڈالر کے منصوبے کے بانی کے طور پر جانی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ کون میڈیا پر اشتہارات دے کر اس منصوبے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ پی پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے جنہوں نے اس کا آغاز کیا، چین کے ساتھ مذاکرات کیے اور ہمسایہ ملک کے ساتھ سرحدی مسئلہ حل کیا۔
دراصل چین کی سرحد سے پاکستان کی گہرے پانی کی بندرگاہوں تک ایک راہداری کے منصوبے کا تصور 1950 کی دہائی سے موجود تھا، جس کے تحت 1959 میں شاہراہ قراقرم کی تعمیر کا بھی آغاز ہوا۔ 2002 میں چین نے دوبارہ پاکستان کے بندرگاہوں میں دلچسپی ظاہر کی، جس کے نتیجے میں گوادر بندرگاہ کی تعمیر کا آغاز ہوا اور یہ منصوبہ 2006 میں مکمل ہوا۔ لیکن 2013 وہ سال تھا جب سی پیک منصوبہ باضابطہ طور پر سامنے آیا، اور اس وقت صدارت کی کرسی پر آصف علی زرداری موجود تھے۔ 22 اور 23 مئی، 2013 کو چینی وزیر اعظم کے پاکستان کے دورے کے دوران صدر زرداری اور مہمان وزیراعظم کے درمیان گوادر پورٹ کی حوالگی اور سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے کئی منصوبوں پر باہمی مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی اتفاق کیا۔
لیکن اسی سال پاکستان میں عام انتخابات کے بعد حکومت تبدیل ہوئی اور اقتدار پیپلز پارٹی سے مسلم لیگ ن کے پاس چلا گیا لہذا اس نے نے یہ دعوی کرنا شروع کر دیا کہ سی پیک پروجیکٹ نواز شریف نے شروع کیا۔ 2014 میں نواز شریف نے چینی وزیر اعظم سے ملاقات کی اور سی پیک کے منصوبے کو حتمی شکل دی گئی۔
نومبر 2014 میں چین نے سی پیک کے تحت پاکستان میں 45.6 ارب ڈالر کے توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ 2015 میں چین اور پاکستان نے معاہدوں پر دستخط کیے، لیکن سی پیک کے طویل مدتی منصوبے کی تفصیلات پہلی بار 2017 میں سامنے آئیں۔
چینی میڈیا کے مطابق 62 ارب ڈالرز کے بجٹ پر محیط اس منصوبے کے پہلے مرحلے دونوں ملکوں نے مل کر 38 منصوبے مکمل کیے، جن کی مالیت 25.2 ارب ڈالرز ہے۔
