پاکستانی سرحدبند،افغانستان نے تجارت کیلئےبھارت سے رابطہ کرلیا

افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی پاکستان کی سرحدہونےکےبعدتجارت کے فروغ کیلئےبھارت پہنچ گئے۔
تفصیلات کے مطابق افغانستان کے وزیرتجارت کابھارت کادورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی اہم زمینی سرحدی گزرگاہیں بند کی ہوئی ہیں جس سے افغان برآمدات خصوصاً پھل اور خوراک کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔
سرحدی جھڑپوں کے بعد پاکستان کی جانب سے چمن اور طورخم سمیت اہم بارڈر کراسنگ بند کیے جانے کے باعث افغان تجارت تقریباً معطل ہے۔
طالبان انتظامیہ اپنے تاجروں کو پہلے ہی مشورہ دے چکی ہے کہ وہ پاکستان پر انحصار کم کریں اور دیگر ممالک سے تجارتی روابط بڑھائیں۔
وزیر نورالدین عزیزی کی بھارت آمد اسی پالیسی کا تسلسل سمجھی جا رہی ہے تاکہ افغانستان کے لیے نئے تجارتی شراکت دار اور متبادل ٹریڈ روٹس تلاش کیے جاسکیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اعلیٰ سطحی افغان وفد کا دورہ بھارت وزیر خارجہ امیر خان متقی کے 5 روزہ کامیاب دورے کے محض چند ہفتوں بعد ہو رہا ہے۔
متقی کے دورے کو نئی دہلی اور کابل کے درمیان روابط کی بحالی کے لیے اہم قدم قرار دیا گیا تھا اور اب وزیر تجارت کی آمد دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اور تجارتی رابطوں کی جانب اشارہ ہے۔
