پاکستان آئی ایم ایف اصلاحات پر پُرعزم، سفارتی برادری کو یقین دہانی

پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تعاون سے جاری اصلاحاتی ایجنڈے پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک اب معاشی استحکام سے اگلے مرحلے، یعنی پائیدار اصلاحات اور ترقی، میں داخل ہو چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، امریکا کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے سے قبل پاکستان کے دو اہم وزراء وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے مختلف ممالک کے سفارتی نمائندوں کو بریفنگ دی۔ یہ ملاقات منگل کے روز وزارت خزانہ میں ہوئی جس میں امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، اٹلی، جرمنی، کینیڈا، آسٹریلیا، سوئٹزرلینڈ، جاپان، نیدرلینڈز اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک کے سفیروں، ہائی کمشنرز اور سینئر سفارت کاروں نے شرکت کی۔
وزارتِ خزانہ کے اعلامیے کے مطابق، دونوں وزراء نے اپنی علیحدہ پریزنٹیشنز میں اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستان معاشی نظم و نسق کی بہتری، شفافیت، اور عالمی معیار کے مطابق ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے پُرعزم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات محض وقتی ضرورت نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک قومی ایجنڈے کا حصہ ہیں، جن کا مقصد اقتصادی مسابقت، شفافیت اور لچک میں اضافہ ہے۔
رواں مالی سال پاکستان کی معاشی ترقی 3.6 فیصد تک محدود رہے گی: آئی ایم ایف
سفارتی نمائندوں نے اس بریفنگ کو جامع اور شفاف قرار دیتے ہوئے پاکستان کے پائیدار اصلاحاتی اقدامات کو سراہا۔
وفاقی وزیر توانائی نے اپنے خطاب میں سفیروں کو توانائی کے شعبے میں 2 سے 3 ارب ڈالر کے ممکنہ سرمایہ کاری مواقع سے آگاہ کیا۔ انہوں نے عالمی پاور یوٹیلیٹی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور صنعتی ماہرین کو پاکستان میں گرڈ سسٹم کی جدید کاری، قابلِ تجدید توانائی کے انضمام، تقسیم کی کارکردگی اور توانائی خدمات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
