تحریک تحفظ آئین پاکستان کامزاحمت کاراستہ اختیارکرنےپراتفاق

تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قومی کانفرنس میں سیاسی رہنماؤں، وکلا، صحافیوں نے پی ٹی آئی کو مفاہمت کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کرنےپر اتفاق کیا ہے۔
اپوزیشن تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت قومی کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، وکلا، صحافیوں، دانش وروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
سیاسی رہنماؤں نے آئینی ترامیم کو مسترد کیا، پارلیمنٹ کو بے اختیار کرنے کی مذمت کی۔ وکلا نے عدلیہ کو بے حیثیت کرنے اور صحافیوں نے پیکا ایکٹ کے خلاف آواز بلند کی۔
شرکا نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مفاہمت کے بجائے مزاحمت کرنے پر اتفاق کیا اور پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کی راہ اپنائے ہم ساتھ دیں گے۔
کانفرنس سے خطاب میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئیں ایک دوسرے کو معاف کریں ہم معاف کرتے ہیں، آئیں مل کر ملک پاکستان کو اس بربادی سے نکالیں، ہم جمہوری ڈائیلاگز کے لیے تیار ہیں، اگر کوئی مذاکرات کرنا چاہتا ہے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیں۔
انہوں نے کہا کہ سزائیں تو آپ دے رہے ہیں مگر ملاقات تو فیملی اور قائدین کا حق ہے وہ تو دیں، مولانا فضل الرحمان، نواز شریف، جماعت اسلامی سمیت قائدین بیٹھیں اور بات کریں، 8 فروری کے الیکشن میں جس کی جیت ہوئی اسے الیکشن دے دیں۔
انہوں نے کہا کہ 5309 ارب کی کرپشن کی رپورٹ سامنے آئی ہے، ہمارے ادارے ہماری آنکھیں ہیں اور ہمارے کان ہیں وہ اپنا کام ضرور کریں، سیاست میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
