پاکستان کا افغانستان میں جاری فضائی حملوں میں مزید تیزی لانے کا فیصلہ

گزشتہ ایک ہفتے سے جاری پاک۔افغان کشیدگی، سرحدی جھڑپوں کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ فضائی حملوں، ڈرون کارروائیوں اور سرحدی چوکیوں پر قبضوں کے متواتر دعوؤں نے صورتحال کو ایک محدود مگر باقاعدہ جنگی کیفیت میں تبدیل کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے خطے کی مجموعی سفارتی فضا کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ پاک۔افغان جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے امکانات معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے ماضی میں متحرک رہنے والے ممالک خود اس وقت علاقائی تناؤ اور سفارتی دباؤ کا شکار ہیں، جس کے باعث ثالثی کی کوششیں سست پڑ چکی ہیں۔ یوں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ بات چیت اور فوری جنگ بندی کی راہیں محدود ہوتی نظر آتی ہیں۔
مبصرین کے مطابق جب خطے میں پہلے ہی ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، ایسے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان محاذ آرائی نے علاقائی منظرنامے کو مزید پیچیدہ اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اسی تناظر میں یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ پاکستان پہلی بار براہِ راست افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو کیوں نشانہ بنا رہا ہے اور یہ جھڑپیں آخر کب تک جاری رہ سکتی ہیں؟ کیا یہ کارروائیاں مخصوص عسکری اہداف کے حصول تک محدود رہیں گی یا ایک طویل سرحدی محاذ آرائی کی شکل اختیار کر سکتی ہیں؟ کیا سفارت کاری کے دروازے کھلیں گے یا اس بار بندوقوں کی گونج ہی دوطرفہ تعلقات کی سمت متعین کرے گی؟ یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جو اس تنازع کو خطے کی سیاست، سلامتی اور طاقت کے توازن کے لیے فیصلہ کن بنا رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکی تھی اور ایک عرصے سے پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال ہو رہی تھی، اس لیے افغانستان میں قیام پذیر پاکستان دشمن طالبان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہو چکی تھی۔ افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے شرپسندوں کو نکیل ڈالنے سے انکار کے بعد ہی پاکستان نے خود ان دہشتگردوں کو مکمل ٹھوکنے کا فیصلہ کیا ہے، آخری پاکستان دشمن دہشتگرد کے خاتمے تک فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ دوسری جانب کابل ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی خودمختاری کے دفاع پر زور دے رہا ہے، جس کے بعد آنے والے دنوں میں پاک افغان کشیدگی میں فوری کمی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
چھ روز سے جاری کارروائیوں کے دوران پاکستان نے افغانستان کے اندر درجنوں مقامات پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جن میں مبینہ طور پر اسلحہ ڈپو، بٹالین ہیڈکوارٹر اور عسکری تنصیبات شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بگرام ایئر بیس پر بھی حملے کی خبریں سامنے آئیں، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ان فضائی حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں طالبان دہشتگرد بھی جہنم واصل ہوئے ہیں جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق جھڑپوں کے دوران سیکڑوں افغان اہلکار ہلاک ہوئے، درجنوں چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں اور بھاری عسکری سازوسامان کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ان کے مطابق کارروائیاں انٹیلیجنس بنیادوں پر کی گئی ہیں اور ان کا ہدف مخصوص عسکری تنصیبات تھیں۔ عطا اللہ تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک شدت پسند گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے۔
دوسری جانب سینیئر صحافی اور تجزیہ کار طلعت حسین کے مطابق پاکستان افغانستان میں ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جو مبینہ طور پر خودکش حملہ آوروں کی تیاری یا عسکری معاونت کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان کے خیال میں سرحدی علاقوں میں سٹریٹیجک چیک پوسٹس پر قبضے کا مقصد ایک بفر زون قائم کرنا تاکہ افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دراندازی کو روکا جا سکے۔بعض دیگر مبصرین کے مطابق اس بار پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے حملے محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک طویل منصوبہ بندی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں، جن کا مقصد طالبان فورسز کو مسلسل دباؤ میں رکھ کر پالیسی تبدیلی پر مجبور کرنا ہے۔ تاہم اس کے باوجود افغان طالبان کے بیانات سے فوری پسپائی کے آثار نظر نہیں آرہے۔
سینیئر صحافی سمیع یوسفزئی کے مطابق پاک فوج کی مخصوص علاقوں میں فضائی کارروائیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بظاہر پاکستان نے اپنے عسکری اہداف متعین کر رکھے ہیں اور وہ ان کے حصول تک کارروائیاں جاری رکھ سکتا ہے۔ ان کے خیال میں افغان طالبان کو سفارتی سطح پر ٹی ٹی پی بارے ایک واضح اور دو ٹوک مؤقف اپنانا ہوگا، کیونکہ اب وہ محض ایک مزاحمتی گروہ نہیں بلکہ ایک حکومتی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔
ایران اسرائیل جنگ سے پاکستانی معیشت خطرے میں کیوں؟
دفاعی ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے آثار دکھائی نہیں دیتے کیونکہ ماضی میں دونوں ممالک میں کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرنے والے قطر، ترکی اور سعودی عرب موجودہ علاقائی تناؤ کے باعث اس معاملے پر بظاہر خاموش دکھائی دیتے ہیں، جبکہ سفارتی سرگرمیاں بھی پس منظر میں چلی گئی ہیں۔ایسے میں بنیادی سوال برقرار ہے کہ آیا پاکستان کی فضائی کارروائیاں مخصوص عسکری اہداف کے حصول پر رک جائیں گی یا یہ صورتحال ایک طویل اور تھکا دینے والی سرحدی محاذ آرائی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر دونوں جانب بیانیہ مزید سخت ہوا اور زمینی کارروائیاں پھیلیں تو کشیدگی میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔ تاہم اگر پسِ پردہ سفارتی چینلز فعال کیے گئے تو فائر بندی اور مذاکرات کی راہ نکل سکتی ہے۔فی الحال منظرنامہ غیر یقینی ہے۔ گولہ بارود کی گونج میں اصل فیصلہ کن عنصر یہی ہوگا کہ آیا سیاسی قیادت بندوقوں کو خاموش کرانے میں کامیاب ہوتی ہے یا یہ تنازع خطے کی سیاست اور سلامتی کے توازن کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیتا ہے۔
