پاکستان نے امریکی سیٹلائٹ کمپنی کو سکیورٹی خطرہ قرار دے دیا

پاکستانی سیکیورٹی حکام نے سپیس ایکس کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ منصوبے سٹارلنک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے پاکستان میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا لائسنس جاری کرنے کا عمل وقتی طور پر روک دیا ہے۔ یہ کمپنی صدر ٹرمپ کے کھرب پتی بزنس مین دوست ایلون مسک کی ملکیت ہے، جو ٹیسلا کار اور ٹوئیٹر کے بھی مالک ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات اور جیو پولیٹیکل خدشات کے پیش نظر اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ امریکی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس پاکستان کے قومی مفادات کے لیے خطرہ نہ بنے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ محض ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک حساس سٹریٹجک معاملہ ہے، کیونکہ اس میں ڈیٹا زمین پر موجود نیٹ ورکس کے بجائے خلا میں موجود سیٹلائٹس کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جس سے ریاستی نگرانی اور کنٹرول محدود ہو جاتا ہے۔ دستاویزی شواہد کے مطابق سٹارلنک نے پاکستان میں آپریشنز کے لیے ابتدائی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کا عمل 2021 میں شروع کیا تھا، جب کمپنی نے مقامی سطح پر رجسٹریشن کروائی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سمیت متعلقہ اداروں سے رابطے کیے۔ تاہم اب یہ معاملہ پالیسی فریم ورک اور ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کی عدم موجودگی کے باعث مسلسل التوا کا شکار ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق ایک بڑا خدشہ یہ ہے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز بعض صورتوں میں مقامی نگرانی کے نظام اور حفاظتی چیک پوائنٹس کو بائی پاس کر سکتی ہیں، جس سے صارفین کا ڈیٹا اور حساس معلومات غیر محفوظ ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے بغیر جامع سیکیورٹی گارنٹیز اور ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے کسی غیر ملکی کمپنی کو کام کرنے کی اجازت دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ روایتی براڈ بینڈ سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ اس میں ڈیٹا خلا میں موجود سیٹلائٹس کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جس کے باعث ریاستی اداروں کے لیے نگرانی، فلٹرنگ اور ریگولیشن مشکل ہو جاتی ہے۔ اگر ڈیٹا کا کنٹرول بیرونی اداروں کے پاس ہو تو اس سے قومی خودمختاری پر اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر جب جدید ٹیکنالوجی مقامی گراؤنڈ سٹیشنز کے بغیر بھی کام کر سکے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ سٹارلنک ٹرمینلز پر جغرافیائی پابندیاں ہونے کے باوجود تکنیکی خامیوں کے باعث ان کی بلیک مارکیٹ عالمی سطح پر پھیل چکی ہے، اور یہی غیر رجسٹرڈ ڈیوائسز حساس خطوں میں بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ان سگنلز کو ٹریک اور جزوی طور پر جام کیا جا سکتا ہے، مگر انہیں مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، جس سے عسکری اور غیر ریاستی استعمال کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، خاص طور پر ڈرون اور جدید جنگی آپریشنز میں۔ عالمی تناظر میں یوکرین کی مثال دی جاتی ہے جہاں جنگ کے دوران اس سروس نے انٹرنیٹ رابطے برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن پاکستانی سیکیورٹی حکام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایک نجی کمپنی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر پر کس حد تک کنٹرول رکھ سکتی ہے۔ دوسری جانب چین نے غیر ملکی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں تاکہ ڈیجیٹل خودمختاری برقرار رکھی جا سکے، جبکہ روس اور ایران میں بھی ایسی ٹیکنالوجی کے استعمال کو سخت نگرانی میں رکھا جاتا ہے تاکہ اسے امریکی سی آئی اے اور روسی موساد سے بچایا جا سکے۔
دوسری طرف کچھ ٹیلی کام ماہرین اس مؤقف سے مکمل اتفاق نہیں کرتے۔ انکے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں سٹارلنک کامیابی سے کام کر رہا ہے، جہاں حکومتوں نے سخت ریگولیٹری فریم ورک، ڈیٹا پروٹیکشن قوانین اور سیکیورٹی آڈٹس کے ذریعے ممکنہ خطرات کو کم کیا ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کے لیے بنائے گئے قوانین اور نگرانی کا نظام ہے۔ پاکستان کے لیے یہ معاملہ دوہرا چیلنج بن چکا ہے۔ ایک طرف ملک کو تیز رفتار انٹرنیٹ اور خاص طور پر دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل رسائی بڑھانے کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف قومی سلامتی، ڈیٹا سیکیورٹی اور خودمختاری کا تحفظ بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔
پاکستانی سولر صارفین نیٹ میٹرنگ سے پیچھے کیوں ہٹنے لگے؟
ماہرین کے مطابق اگر واضح پالیسی، شفاف لائسنسنگ شرائط اور مؤثر سیکیورٹی نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تو پاکستان سیٹلائٹ انٹرنیٹ جیسی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں سٹارلنک کو لائسنس دینے کا فیصلہ محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سٹریٹجک فیصلہ بن چکا ہے۔
